سوشل میڈیا پر متنازع بیانات سے متعلق کیس میں عدالت نےپاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دے دیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دینے کا باضابطہ حکمنامہ جاری کر دیا گیا ہے۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق شہزاد اکبر کو متعدد مرتبہ سمن جاری کیے گئے، لیکن اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر انہیں اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکم نامے میں متعلقہ حکام کو شہزاد اکبر کے وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ان کی عدالت میں حاضری یقینی بنائی جا سکے۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم نے تفتیش کے دوران تفتیشی اداروں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا اور قانونی کارروائی کے دوران بارہا غیر حاضر رہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس رویے کے باعث کارروائی کو آگے بڑھانے میں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق کیس کا چالان پہلے ہی عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے، اور اب عدالت کی جانب سے ملزم شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دینے کا حکم جاری ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے توقع ہے کہ وہ شہزاد اکبر کی گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کریں گے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی مرزا شہزاد اکبر کے خلاف یہ مقدمہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مبینہ طور پر متنازع بیانات دینے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے درج کیا تھا۔ عدالت میں کارروائی کے دوران غیر حاضری کے سبب شہزاد اکبر کے خلاف یہ اہم اقدام اٹھایا گیا ہے، جس کے بعد کیس میں پیش رفت مزید تیز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔