بلوچستان کے ضلع سوئی میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کالعدم تنظیم کے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی نے اپنے 100 سے زیادہ ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں شرکا نے اپنا اسلحہ صوبائی وزیر میر آفتاب احمد بگٹی کے حوالے کیا جبکہ اس موقع پر حکومتِ بلوچستان کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے تمام ساتھیوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے پر مبارک باد دی اور کہا کہ ’وڈیرہ نور علی چاکرانی اور ان کے ایک سو سے زیادہ ساتھیوں کا قومی دھارے میں شمولیت کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔ یہ اقدام امن و استحکام کی جانب اہم قدم ہے‘۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ’ہتھیار ڈالنے والوں نے پاکستان کا پرچم اٹھا کر امن کے سفر کا آغاز کیا ہے۔ آئین پاکستان تسلیم کر کے قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کو گلے لگانے کا عمل جاری رہے گا، تاہم جو ریاست کی نرمی کو کمزوری سمجھے گا اس کا آخری دم تک تعاقب کیا جائے گا‘۔
تقریب میں موجود صوبائی وزیر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’یہ واقعہ واضح پیغام ہے کہ ریاست نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔ بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور ساتھ ہی ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے‘۔
سرکاری حکام کے مطابق ہتھیار ڈالنے والے افراد نے ریاست سے مکمل وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ پرامن زندگی گزاریں گے اور ترقی کے سفر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت صوبے میں دیرپا امن کے قیام میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔