حکومتِ پاکستان نے بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے تحفظ، سہولت اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ایک اہم اور بروقت اقدام اٹھایا ہے،اقدام کے تحت بیرونِ ملک روزگار سے متعلق تمام سرکاری اور متعلقہ مراحل میں نقد ادائیگیوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اب امیدواروں کو پروٹیکٹر سمیت کسی بھی سرکاری یا متعلقہ عمل کیلئے فیس یا چارجز نقد ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے اس حوالے سے تمام متعلقہ وزارتوں، اداروں اوراسٹیک ہولڈرز کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
مراسلے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ بیرونِ ملک ملازمت کیلئے جانے والے تمام امیدوار اپنی ادائیگیاں صرف بینکنگ چینلز یا حکومت کی جانب سے منظور شدہ آن لائن اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ہی کریں گے۔
اس اقدام کا مقصد مالی لین دین کو دستاویزی بنانا اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا استحصال کے امکانات کو کم سے کم کرنا ہے مزید برآں، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اب کوئی بھی ایمپلائمنٹ پروموٹر امیدواروں سے کسی قسم کی نقد رقم وصول نہیں کر سکے گا ، تمام فیسیں اور چارجز صرف بینک ٹرانسفر، آن لائن ادائیگی یا دیگر منظور شدہ ڈیجیٹل طریقوں کے ذریعے ہی وصول کی جائیں گی۔
اس سے نہ صرف امیدواروں کو غیر قانونی مطالبات سے تحفظ ملے گا بلکہ بھرتی کے پورے عمل میں شفافیت بھی بڑھے گی ،حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔
کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جس میں لائسنس کی معطلی یا منسوخی بھی شامل ہے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام بیرونِ ملک جانے والے محنت کشوں اور ہنرمند افراد کے اعتماد کو بحال کرنے اور پاکستان کے امیگریشن نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔