امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک پروجیکٹ فریڈم کی مکمل بحالی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اس منصوبے کی بڑے پیمانے پر بحالی پر سنجیدگی سے غور جاری ہے۔
ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکتا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی مفادات اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بالآخر دباؤ کے سامنے جھک جائے گا اور کسی نہ کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا، ان کا مزیدکہنا تھا کہ اس وقت تک تہران پر سیاسی، سفارتی اور معاشی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی مذاکرات کار افزودہ یورینیم کو ہٹانے کے معاملے میں امریکی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایران کے پاس اسے محفوظ طریقے سے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے ردعمل کو ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکی تجاویز کے جواب میں ایک متبادل منصوبہ پیش کیا ہے جس میں جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط شامل ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے دنیا کے ساتھ “کھیل کھیلتا” رہا ہے، تاہم اب اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔