عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں ایک دن کے وقفے کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اس تازہ اضافے نے زیورات کی خریداری کو مزید مہنگا بنا دیا ہے جبکہ سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں 24 کیرٹ سونے کی فی تولہ قیمت میں 2600 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سونا فی تولہ 454,862 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2229 روپے بڑھ کر 389,970 روپے ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں یہ اضافہ عالمی رجحانات، ڈالر کی قدر اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی 68 روپے مہنگی ہو کر 6,532 روپے میں فروخت ہو رہی ہے ۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، عالمی سطح پر فی اونس سونا 26 ڈالر مہنگا ہو کر 4,325 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ ممکن ہے، جس کا انحصار عالمی معاشی حالات اور امریکی ڈالر کی مضبوطی یا کمزوری پر ہوگا ، زائد سونا خریدااور پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔
دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے، بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں ، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں ۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدااور پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔