خیبرپختونخواحکومت کا 600 ارب روپے مالیت چرس کی پیداوار کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ

خیبرپختونخواحکومت کا 600 ارب روپے مالیت چرس کی پیداوار کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے بھنگ کی کاشت اور اس سے سالانہ 600ارب روپے مالیت کی تیار کی جانے والی 35لاکھ کلو گرام چرس کو قانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کمیٹی کا اعلامیہ جاری کردیا۔

صوبے کے تین اضلاع خیبر کی وادی تیراہ،اورکزئی اور کرم میں 295سکوئر کلو میٹر یعنی72ہزارایکڑ اراضی پر کاشت ہونے والی بھنگ سے سالانہ3ہزار 500ٹن یعنی 35لاکھ کلوگرام چرس پیدا ہوتی ہے جس کی مالیت 600ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں 109سکوئر کلومیٹر، کرم میں 46سکوئر کلومیٹر اور اورکزئی میں 140سکوئر کلومیٹر رقبہ پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے۔

ایک جانب جہاں بھنگ کی تھوڑی سی مقدار اگرادویات میں استعمال ہوتی ہے تو دوسری جانب اس کا زیادہ ترحصہ چرس کی تیاری، سمگلنگ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن دہشت گردی کیلئے استعمال ہوتی ہے۔

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے 4دسمبر کو ہونے والی میٹنگ کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا جا چکا ہے جو بھنگ کی کاشت کو قانونی تحفظ دینے کیلئے تجاویز مرتب کرے گی جس کی پر صوبائی کابینہ سے باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔ میٹنگ کی ابتدائی منٹس کے مطابق صوبے کے تین اضلاع خیبر کی وادی تیراہ، کرم اور اورکزئی میں بھنگ کی قانونی کاشت کرنے والے زمینداروں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ بھنگ کی کاشت کرنے والے افراد کو باقاعدہ لائسنس جاری کیا جائے گا۔ ضلع خیبر میں بنگ کی زیادہ تر فصل سے چرس بنائی جاتی ہے جس کی اعلیٰ کوالٹی چرس نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک بھی مشہور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا میں ’بیڈ گورننس‘ کے خلاف درخواست دائر

بھنگ کی کاشت اور عمران خان خواہش

پاکستان میں بھنگ کی کاشت کو قانونی تحفظ دینے کی بات 2020ء میں شروع ہوئی جب سابق وزیر اعظم عمران خان نے چار وفاقی وزارتوں وزارت انسداد و منشیات، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، وزارت غذائی تحفظ اور وزارت تجارت کو مل کر لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت کی۔

2021ء میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے ضلع خیبر، اورکزئی اور کرم میں بھنگ کی کاشت کے سروے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی کو ذمہ داری سونپی۔جون2021ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ، کرم اور اورکزئی میں سروے کا آغاز کیا گیا اور 6ماہ میں مکمل کر لیا گیا اس سروے پر ایک کروڑ43لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

جدید ٹیکنالوجی کی مدد اور مقامی مارکیٹ سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق تینوں اضلاع میں 72ہزار 896 ایکڑ رقبے پر بھنگ کاشت کی جاتی ہے جس سے سالانہ3500ٹن یعنی 35لاکھ کلو گرام چرس حاصل ہوتی ہے۔اس وقت بھنگ سے پیدا کی جانے والی فی کلو گرام چرس کی قیمت مارکیٹ میں ایک لاکھ 30 ہزار سے ایک لاکھ 80ہزار کے درمیان ہوتی ہے اور اگر اس حساب سے35لاکھ کلو گرام کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے توان کی مالیت 600 ارب روپے بنتی ہے۔

سروے کے مطابق رقبے کے لحاظ سے بھنگ کی سب سے زیادہ کاشت ضلع اورکزئی میں ہوتی ہے دوسرے نمبر پر ضلع خیبر کی وادی تیراہ اور تیسرے نمبر پر ضلع کرم آتا ہے تاہم بہترین پیداوار تیراہ میں ہوتی ہے۔بھنگ کی کاشت کے کل رقبے اور چرس کی سالانہ پیدوار پر مبنی یہ رپورٹ دسمبر 2021ء میں خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کارپوریشن (کے پی ایزمک) کو جمع کرا ئی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے مستقبل بارے اہم پیشگوئی کردی

خیبر پختونخوا حکومت کا بھنگ کو قانونی شکل دینے کا اقدام

4دسمبر2025ء کو بھنگ کی کاشت کو قانونی تحفظ دینے کیلئے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے زیر اہتمام ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن فخر جہاں نے کی اجلاس میں وزیر صحت خلیق الرحمن، وزیر قانون آفتاب عالم، سیکرٹری ایکسائز خالد الیاس، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبد الحلیم، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر بلال راو، ایڈوکیٹ جنرل، محکمہ صحت، پشاور یونیورسٹی، خیبر پختونخوا سرمایہ کاری بورڈ، محکمہ داخلہ، محکمہ زراعت، پی سی ایس آئی آر اور خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے منٹس کے مطابق ایجنڈا آئٹم میں لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے ریٹ کا تعین کرنا، تیراہ، اورکزئی اور کرم میں بھنگ کاشت کرنے والے زمینداروں کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رجسٹریشن، بھنگ ماڈل، بھنگ کاشت کرنے والے علاقوں کی منظوری، کاشت کیلئے سالانہ کوٹہ، بھنگ رولز میں ترامیم شامل تھے۔ کمیٹی نے تمام تجاویزکیساتھ اصولی اتفاق کرتے ہوئے پہلے اور دوسرے مرحلے میں بھنگ کی کاشت کرنے والے خواہشمند حضرات کیلئے لائسنس کے اجرا ء پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔

اس اجلاس میں 17رکنی ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لانے کی بھی منظوری دی گئی جس میں ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ، ڈپٹی کمشنر خیبر، ڈپٹی کمشنر کرم، ڈپٹی کمشنر اورکزئی،محکمہ قانون، فارماسیوٹیکل کمپنی، ایڈوکیٹ جنرل دفتر اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندے شامل ہونگے۔ ذیلی کمیٹی کو ٹاسک حوالے کیا گیا کہ صوبائی کابینہ سے منظوری کیلئے وہ بھنگ کی کاشت کرنے والوں کیلئے لائسنس فیس اور ایکسائز ڈیوٹی کا تعین کرکے سفارشات مرتب کرے گی۔ بھنگ کی کاشت کیلئے تمام تحریری کام مکمل کرے گیاور دوسرے مرحلے میں بھنگ کی کاشت کرنے والے افراد کو لائسنس کے اجراء کے حوالے سے سفارشات تیار کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا، ادویات سکینڈل میں کتنے افسران ملوث ہیں، وہ کون کون ہیں، اور ہر ایک کا کردار کیا رہا؟

author

Related Articles