وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عوامی فلاح، تعلیمی اصلاحات، شفاف امتحانی نظام، احتساب، روزگار کے مواقع اور شہری سہولیات سے متعلق متعدد بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں صوبے کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے واضح اہداف مقرر کیے گئے اور عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیاتعلیم کے شعبے میں نمایاں اقدام کے طور پر سرکاری اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کے لیے خصوصی الاؤنس پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر دس ہزار روپے کرنے کی منظوری دی گئی۔
اس فیصلے کا مقصد تعلیمی قیادت کی حوصلہ افزائی اور تدریسی معیار میں بہتری لانا ہے، اسی طرح امتحانات کو شفاف، غیر جانبدار اور معیار کے مطابق بنانے کے لیے ایک خودمختار امتحانی اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس سے نقل اور بدانتظامی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا گیا، وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ آئندہ تین ماہ کے اندر ہر محکمے کی مکمل انکوائری مکمل کی جائے، تاکہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری خزانہ عوام کی امانت ہے اور ایک پائی کی کرپشن بھی برداشت نہیں کی جائے گی،نوجوانوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی میں صوبے کے دوسرے معلوماتی ٹیکنالوجی شہر کے قیام کی منظوری دی گئی۔
اس کے ساتھ ہی ایک سال کے اندر دو ہزار تین سو نوجوانوں کو ہنر مند پیشہ ور افراد بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا، تاکہ روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔شہری سہولیات کے حوالے سے لاہور میں جدید ٹریفک نظام نافذ کرنے، زیبرا کراسنگ کے ذریعے سڑکوں کو محفوظ بنانے اور غیر قانونی ٹریفک لائٹس ہٹوانے والے وارڈنز کے لیے ایک لاکھ روپے انعام مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔
صحت کے شعبے میں فیصل آباد کے ہولی فیملی ہسپتال کے لیے ضروری آلات کی خریداری اور مری میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو جنرل ہسپتال میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا زرعی اور لائیو اسٹاک شعبے میں مویشیوں کی برآمد کے فروغ کے لیے لائیو اسٹاک کو کمپنی کی شکل دینے، گندم کا ہدف بروقت پورا کرنے پر وزیر زراعت کی کارکردگی کو سراہنے اور لاہور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔