عثمان ہادی پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے ملزمان بھارت فرار ہوگئے، بنگلہ دیشی پولیس کا دعویٰ

عثمان ہادی پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے ملزمان بھارت فرار ہوگئے، بنگلہ دیشی پولیس کا دعویٰ

بنگلہ دیشی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ طلبہ رہنما عثمان ہادی پر فائرنگ کرنے والا ملزم فیصل کریم مسعود اور اس کا ساتھی موٹر سائیکل سوار عالمگیر شیخ حملے کے فوراً بعد بھارت فرار ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ  دونوں ملزمان جمعے کے روز میمن سنگھ کے علاقے ہلوآ گھاٹ کے راستے سرحد عبور کر کے بھارت داخل ہوئے۔

 تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے روز ملزمان میرپور سے غازی پور گئے، بعد ازاں مختلف گاڑیاں تبدیل کرتے ہوئے سرحدی علاقے تک پہنچے۔

مزید پڑھیں: ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت، بنگلہ دیش کا بھارت کے خلاف سخت ترین ردِعمل، دباؤ، بالادستی مسترد

دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے ڈھاکا میں بھارتی ہائی کمشنر پرنئے ورما کو طلب کر کے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ملزمان بھارتی حدود میں موجود ہوں تو انہیں گرفتار کر کے بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے۔

ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق سرحد پار کرنے میں مدد دینے کے شبہ میں دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ موٹر سائیکل کے مالک محمد عبدالحنان کو بھی گرفتار کر کے ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : طلبا رہنما عثمان ہادی کی ٹارگٹ کلنگ، بھارتی مداخلت کیخلاف بنگلہ دیشی عوام سراپا احتجاج

پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ فیصل کریم مسعود ہی عثمان بن ہادی پر فائرنگ کرنے والا مرکزی ملزم ہے جبکہ عالمگیر شیخ سیاسی تنظیم چھاترا لیگ سے وابستہ رہا ہے۔ تفتیش جاری ہے تاہم ملزمان کے موجودہ ٹھکانے سے متعلق حتمی معلومات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔

واضح رہے  عثمان بن ہادی کو پرانا پلٹن کے علاقے میں اس وقت سر میں گولی ماری گئی جب وہ بیٹری رکشہ میں سفر کر رہے تھے۔ وہ ڈھاکا کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے ۔

editor

Related Articles