آج ایک دلچسپ فلکیاتی منظر دنیا بھر کے کروڑوں افراد کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 10 منٹ پر دنیا کی تقریباً 99 فیصد آبادی ایک ہی وقت میں یا تو سورج کی روشنی میں ہوگی یا شفق کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کر رہی ہوگی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ غیر معمولی منظر زمین کے محور کے جھکاؤ اور شمالی نصف کرۂ ارض میں موسمِ گرما کے باعث سامنے آتا ہے، جب دن کا دورانیہ نسبتاً طویل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت صرف تقریباً ایک منٹ تک برقرار رہے گی۔ اس دوران دنیا کے زیادہ تر گنجان آباد علاقے دن کی روشنی یا شفق میں ہوں گے، جبکہ صرف ایک محدود حصہ مکمل تاریکی میں رہے گا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس وقت شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ، افریقا اور ایشیا کے بیشتر علاقوں میں دن کی روشنی یا شفق دکھائی دے گی، جبکہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوب مشرقی ایشیا کے بعض حصوں، انٹارکٹیکا اور اردگرد کے سمندری علاقوں میں رات برقرار رہے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ فلکیاتی کیفیت کوئی ایک روزہ واقعہ نہیں بلکہ ہر سال تقریباً 18 مئی سے 17 جولائی کے درمیان لگ بھگ 60 دن تک روزانہ مختصر وقت کے لیے پیش آتی ہے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ کے بعد اس فلکیاتی منظر کو خاص طور پر 8 جولائی سے جوڑ دیا گیا، تاہم تاریخ اور وقت کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق یہ منظر اس پورے عرصے میں روزانہ مختصر دورانیے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس فلکیاتی مظہر کے عروج پر دنیا کی تقریباً 83 فیصد آبادی مکمل دن کی روشنی میں ہوگی، 16 فیصد افراد شہری، بحری یا فلکیاتی شفق کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کریں گے، جبکہ صرف 1 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں موجود ہوگی جہاں مکمل رات برقرار رہے گی۔