پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار ہے جبکہ تبادلہ مارکیٹ میں بھی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کاروباری ہفتے کے دوسرے روز اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال دکھائی دیا اور کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا، مارکیٹ کھلتے ہی خریداری کا دباؤ بڑھ گیا جس کے نتیجے میں پہلے سیشن کے دوران 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ٹریڈنگ کے آغاز پر ہی 100 انڈیکس میں 577 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 781 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا، مارکیٹ میں بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا، جس نے مجموعی طور پر مارکیٹ کو سہارا دیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری اور مثبت معاشی توقعات نے بھی تیزی میں اہم کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری روز اسٹاک ایکسچینج میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا تھا، کاروباری دن کے اختتام پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 204 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، تاہم آج مارکیٹ نے ایک بار پھر اوپر کی جانب سفر شروع کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ تیزی کی ایک وجہ مہنگائی میں کمی، شرح سود سے متعلق مثبت قیاس آرائیاں اور آئی ایم ایف پروگرام سے جڑی پیش رفت بھی ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب زرمبادلہ کی مارکیٹ میں بھی پاکستانی روپے کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے ، امریکی ڈالر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 2 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ڈالر 280 روپے 20 پیسے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں اسٹاک مارکیٹ میں مزید بہتری اور روپے کی قدر میں استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے، جو مجموعی طور پر ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔