دہشتگردی کے خاتمے کیلئےصوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جائیں،گورنر خیبر پختونخوا

دہشتگردی کے خاتمے کیلئےصوبے میں  انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جائیں،گورنر خیبر پختونخوا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اس وقت سنگین سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہو چکے ہیں۔

پریس کانفرنس  کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف بیانیہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے، ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد عناصر کے سامنے جھکنے کے بجائے ریاست کو مضبوط اور دوٹوک مؤقف اپنانا ہوگا،انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت کو بھی بارہا آگاہ کیا جا چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے کیونکہ خطے کے امن کے لیے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کے پی میں گورنر راج کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا کا اہم بیان سامنے آگیا

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو اڈیالہ جیل میں قائم غیراعلانیہ سیکرٹریٹ فوری طور پر ختم کرنا چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت این آر او حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے حالانکہ بانی پی ٹی آئی اپنے ہی اقدامات اور فیصلوں کے باعث جیل میں ہیں، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سزا یافتہ شخص کو دھرنوں اور احتجاج کے ذریعے آزادی نہیں مل سکتی۔

انہوں نے ماضی کی سیاسی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی رہنماؤں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر کسی نے بھی ریاستی اداروں یا شہداء کی یادگاروں پر حملے کی ترغیب نہیں دی، انہوں نے یاد دلایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت جیسے المناک واقعے کے بعد بھی پیپلز پارٹی کی قیادت نے صبر، تحمل اور جمہوری رویے کا مظاہرہ کیا اور اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی سے گریز کیا،فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ سیاست، ریاستی مفادات کا تحفظ اور دہشتگردی کے خلاف یکجہتی ہی ملک کو استحکام کی طرف لے جا سکتی ہے۔

editor

Related Articles