پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے باوجود کوچنگ کے شعبے میں آنے میں عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فی الحال چند منتخب انٹرنیشنل لیگز کھیلنا چاہتے ہیں اور ٹیلی وژن کمنٹری کے شعبے میں بھی اپنی صلاحیتیں آزما رہے ہیں۔
شعیب ملک اس وقت متحدہ عرب امارات میں جاری آئی ایل ٹی ٹوئنٹی لیگ کے دوران کمنٹری پینل کا حصہ ہیں، جہاں وہ وسیم اکرم، وقار یونس اور دیگر عالمی شہرت یافتہ کرکٹرز کے ساتھ ایک ماہ سے کمنٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس تجربے کو نہایت مثبت اور سیکھنے والا قرار دیا۔
ایک غیر رسمی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے شعیب ملک نے کہا کہ ’میں جلد 45 برس کا ہو جاؤں گا، لیکن اب بھی خود کو فٹ محسوس کرتا ہوں اور اسی وجہ سے منتخب انٹرنیشنل لیگز کھیلنے کا خواہشمند ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کمنٹری میرے لیے ایک نیا مگر خوشگوار تجربہ رہا ہے، جس سے کرکٹ کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کا موقع ملا‘۔
سابق کپتان نے آئی ایل ٹی ٹوئنٹی لیگ کے حوالے سے کہا کہ ’میں نے دنیا بھر کی کئی لیگز کھیلی ہیں، لیکن آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کا معیار، انتظامات اور ماحول اسے دیگر لیگز سے منفرد بناتے ہیں، اس کا موازنہ کرنا آسان نہیں‘۔ انہوں نے لیگ کے منتظمین اور شریک کھلاڑیوں کی بھی تعریف کی۔
شعیب ملک کے ساتھ ان کے صاحبزادے اذہان مرزا ملک کو بھی مختلف مواقع پر دیکھا گیا ہے، جو چھوٹے بیٹ کے ساتھ میدان میں دلچسپی لیتے نظر آتے ہیں۔ تاہم شعیب ملک کے مطابق اذہان کا رجحان کرکٹ کے مقابلے میں فٹ بال کی جانب زیادہ ہے اور وہ اس کھیل میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔
کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ شعیب ملک کا تجربہ اور فٹنس انہیں محدود اوورز کی لیگز کے لیے اب بھی ایک پرکشش انتخاب بناتا ہے، جبکہ کمنٹری کے شعبے میں ان کی موجودگی ناظرین کے لیے معلوماتی اور دلچسپ اضافہ ثابت ہو رہی ہے۔