وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ سندھ اور خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں جہاں بجلی چوری جاری ہے، وہاں لوڈشیڈنگ اس وقت تک ختم نہیں کی جائے گی جب تک اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جاتا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے میں سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور بجلی چوری کے خاتمے کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 13 اپریل سے شروع ہونے والی لوڈشیڈنگ کو 27 اپریل کو عمومی طور پر ختم کر دیا گیا تھا، تاہم وہ علاقے جہاں نقصانات اور چوری کی شرح زیادہ ہے، وہاں بجلی کی بندش بدستور جاری رکھی گئی ہے ، یہ اقدام نظام کو مستحکم کرنے اور ایماندار صارفین کو ریلیف دینے کے لیے ضروری ہے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران گردشی قرضے میں نمایاں کمی آئی ہے، جو 2400 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 1600 ارب روپے تک آ چکا ہے،حکومت آئندہ دو سے تین سال کے دوران اس قرضے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جس کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت میں 16 روپے فی یونٹ تک کمی کی گئی ہے جبکہ گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے بھی 8 سے 9 روپے فی یونٹ تک ریلیف فراہم کیا گیا ہے تاکہ معیشت کو سہارا دیا جا سکے اور عوامی بوجھ کم ہو۔
نجکاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت کا ابتدائی ہدف 2025 تک تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری مکمل کرنا تھا،اس ضمن میں تین کمپنیوں کو نجکاری کے لیے تیار کر لیا گیا ہے اور ان کی بولی کا عمل جلد شروع کیے جانے کی توقع ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشیر بھی مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کی نجکاری آئندہ سال جون سے پہلے متوقع ہے۔
قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 55 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے، جبکہ 2036 تک اس شرح کو 96 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ آئندہ تین سے چار برسوں میں بیٹری ذخیرہ کاری کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی متوقع ہے۔
کراچی میں بجلی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کے الیکٹرک کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت سے خدمات میں بہتری آئے گی اور آئندہ ایک سے دو سال کے دوران کارکردگی میں واضح فرق نظر آئے گا۔