پاکستان ریلوے حکام نے پاکستان ریلویز کے زیرِ اہتمام چلنے والے اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق رواں ماہ سے ہی کر دیا گیا ہے۔ فیسوں میں اضافے کے فیصلے سے ریلوے ملازمین کے بچوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے بچے بھی متاثر ہوں گے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق گریڈ 1 سے گریڈ 10 تک کے ریلوے ملازمین کے بچوں کی ماہانہ فیس 700 روپے سے بڑھا کر 900 روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح گریڈ 11 سے گریڈ 22 تک کے ملازمین اور افسران کے بچوں کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جو 800 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
ریلوے ملازمین کے بچوں کے علاوہ دیگر بچوں کے لیے فیس 1300 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کر دی گئی ہے، جس پر والدین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق فیسوں میں اضافہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور تعلیمی سہولیات کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
علاقائی بنیادوں پر بھی فیسوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ سمہ سٹہ اور خانیوال میں قائم ریلوے اسکولوں میں عام بچوں کی فیس 1000 روپے سے بڑھا کر 1200 روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سکھر اور روہڑی میں واقع ریلوے اسکولوں میں عام بچوں کی ماہانہ فیس 850 روپے سے بڑھا کر 1050 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ فیسوں میں اضافے کا مقصد اسکولوں کے انتظامی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے، تاہم والدین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں فیسوں میں اضافے پر نظرثانی کی جائے۔
فیسوں میں اضافے کے فیصلے کے بعد ریلوے ملازمین اور عام شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ بعض والدین نے اس اقدام کو متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر اضافی بوجھ قرار دیا ہے۔