پاکستان میں اسمارٹ فونز مزید مہنگے کیوں؟ وجہ سامنے آگئی

پاکستان میں اسمارٹ فونز مزید مہنگے کیوں؟ وجہ سامنے آگئی

عالمی سطح پر میموری چِپس کی قلت اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال کے باعث پاکستان میں اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات اب مقامی مارکیٹ میں واضح ہو گئے ہیں۔

انفِنکس اور ٹیکنو پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ کر چکے ہیں، جبکہ ویگوٹیل، ویوو، ریئلمی اور اوپو سمیت دیگر برانڈز آئندہ ہفتے نئی قیمتوں کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مینوفیکچررز کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ درآمد شدہ چِپ سیٹس کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:2026اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی ایم پی ایم اے) کے سینئر نائب چیئرمین مظفر پراچہ نے کہا کہ ’میموری چِپس کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور چونکہ یہ مکمل طور پر درآمد کی جاتی ہیں، اس لیے اس کا براہِ راست اثر موبائل فون کی قیمتوں پر پڑتا ہے‘۔

صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق اے آئی پر مبنی ایپلی کیشنز کی بڑھتی مانگ اور 5جی ٹیکنالوجی کی جانب عالمی منتقلی کے باعث چِپس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ میموری چِپس کی قیمت فی موبائل سیٹ 20 سے 30 ڈالر تک بڑھ چکی ہے۔

پی ایم پی ایم اے کے سینیئر رکن امیر الاوالا کے مطابق ’عالمی موبائل مارکیٹ میں چند ہی بڑے کھلاڑی ہیں، جن میں ایپل، سام سنگ اور چینی برانڈز شامل ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے باعث سولر پینلز، آئی سیز اور چِپ سیٹس جیسی اشیا کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

ایپل اور سام سنگ کے علاوہ تقریباً تمام عالمی موبائل فون مینوفیکچررز میموری چِپس کی شدید قلت سے متاثر ہو رہے ہیں۔ موبائل فون مدر بورڈز کے لیے استعمال ہونے والے زیادہ تر پروسیسرز اور میموری چِپس تائیوان میں تیار کیے جاتے ہیں، تاہم ایپل اور سام سنگ کے پاس اپنی مخصوص سپلائی لائنز موجود ہیں۔

پی ایم پی ایم اے کے نائب چیئرمین ذیشان میاں نور نے کہا کہ ’تقریباً تمام پری لوڈڈ ایپس میں اب اے آئی فیچرز شامل ہو چکے ہیں، جس کے باعث ریم اور روم دونوں کے لیے زیادہ میموری درکار ہے‘۔

مزید پڑھیں:مقبول اسمارٹ فونز کی فہرست جاری،کون سا موبائل پہلے نمبر پرہے؟

اس وقت مارکیٹ میں کم از کم اسمارٹ فون کنفیگریشن 4جی بی ریم اور 64جی بی روم ہے، تاہم تائیوانی مینوفیکچررز نے بڑی حد تک کم گنجائش والی چِپس کی پیداوار بند کر دی ہے اور 6جی بی ریم اور 256جی بی اسٹوریج والی چِپس کی جانب منتقل ہو چکے ہیں، جس کے باعث 4جی بی اور 128جی بی چِپس کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔

ویگوٹیل کے سی ای او نوید گابا نے کہا کہ ’دنیا بھر میں مارکیٹ زیادہ گنجائش اور 5جی کے موافق موبائل سیٹس کی طرف جا رہی ہے، جس سے پرانی کنفیگریشن کی چِپس نایاب اور نئی چِپس مہنگی ہو گئی ہیں‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 میں ہونے والے حالیہ عالمی تنازعات نے دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جس کے باعث آئی ٹی اور ٹیلی کام کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی اعلیٰ معیار کی چِپس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

امیر الاوالا نے خبردار کیا کہ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے اور حکومت کو اس حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسمارٹ فونز کی قسطوں پر فروخت جیسے اقدامات صارفین کے لیے سہولت پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ لوکلائزیشن بڑھانے سے دیگر پرزہ جات کی لاگت بھی کم ہو سکتی ہے‘۔

اس وقت ملک میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ موبائل فونز مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں، تاہم ان میں سے تقریباً 47 فیصد اب بھی 2جی فیچر فونز ہیں، کیونکہ کئی دور دراز علاقوں میں 4جی سروسز دستیاب نہیں۔ آئندہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد، جیسے جیسے کم ترقی یافتہ علاقوں میں 4جی سروسز متعارف ہوں گی، زیادہ میموری والے اسمارٹ فونز کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

Related Articles