خیبرپختونخوا حکومت اپنے ہی قوانین اور کلیدی آسامیوں پر تعیناتی سے متعلق قواعد و ضوابط سے لاعلم نکلی۔ پشاور تعلیمی بورڈ میں اسسٹنٹ سیکرٹری کی آسامی پر تقرری کے معاملے میں قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے بجائے ایک رکنِ قومی اسمبلی کی خوشنودی کو ترجیح دی گئی۔
دستاویزات کے مطابق، 2008 میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور میں اسسٹنٹ سیکرٹری (گریڈ 17) کی پوسٹ پر مہدی جان کی تقرری عارضی بنیادوں پر کی گئی، اس وقت کے ایک رکنِ قومی اسمبلی کی سفارش پر، جبکہ بورڈ نے آسامی مشتہر ہی نہیں کی تھی۔ لیکن اگلے سال عارضی تقرری مستقل کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق، مہدی جان کا موقف ہے کہ سول سرونٹ ریگولرائزیشن ایکٹ 2009 کے تحت اس کی مستقلی انجام پائی حالانکہ یہ ایکٹ سول سرونٹس کیلئے ہے جو بورڈ کے ملازمین پر لاگو ہی نہیں ہوتا کہ درحقیقت وہ پبلک سرونٹس ہوتے ہیں۔
بعدازاں 2014 میں گریڈ 18 میں ترقی کے لیے مہدی جان نے عدالت سے رجوع کی تو بورڈ کے دیگر ملازمین نے، جن کی سینیارٹی متاثر ہو رہی تھی، فریق بن کر اپنا وکیل مقرر کر لیا۔ جب بورڈ ملازمین کے وکیل اور سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے عدالت میں تحریری جواب جمع کروایا تو مہدی جان نے اپنا کیس واپس لے لیا۔
صرف یہی نہیں،2016 میں مہدی جان نے جب محکمہ تعلیم کو ترقی سے متعلق ایک خط لکھا، جس میں پوچھا گیا کہ اسے ترقی دینے کا اختیار کس کے پاس ہے تو اس وقت کے ایک سیکشن افسر نے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ اختیار بورڈ آف گورنرز کے پاس ہے۔ تاہم اسی نوعیت کے ایک اور کیس میں، ڈیرہ اسماعیل خان بورڈ کے ایک افسر کی درخواست پر محکمہ قانون نے واضح کیا کہ ترقی کا اختیار وزیرِ اعلیٰ کے پاس ہے۔
تاہم،2016 میں مہدی جان نے جب بورڈ کی پروموشن کمیٹی کو درخواست دی تو وہ بورڈ آف گورنرز کو ارسال کی گئی۔ بی او جی نے کیس وزیرِ اعلیٰ کو بھیجنے کی سفارش کی، جس کا ذکر بورڈ میٹنگ کے منٹس میں بھی موجود ہے۔ درایں اثناء، اسے گریڈ 18 میں ترقی مل بھی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایک ہی میٹنگ کے دو مختلف منٹس موجود ہیں جس سے میٹنگ کے منٹس میں رد و بدل کرنے کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
پشاور بورڈ کے سابق سیکرٹری بشیر، جو وفاقی حکومت کے ملازم تھے، ڈیپوٹیشن ختم ہونے کے بعد جب واپس اپنے محکمہ گئے تو سیکرٹری کی خالی آسامی پر مہدی جان کو پہلے لُک آفٹر چارج اور بعد ازاں اضافی چارج دے دیا گیا۔ 2021 میں وہ پشاور بورڈ ہی میں ڈیپوٹیشن کی بنیاد پرسیکرٹری تعینات ہوئے۔
ڈیپوٹیشن پالیسی کے مطابق ڈیپوٹیشن صرف سول سرونٹس کی سول سرونٹس کی پوسٹ پر ہو سکتی ہے، اور جس پوسٹ پر تقرری ہو اس کے لیے متعلقہ تعلیم اور تجربہ لازمی ہوتا ہے، مگر پھر مہدی جان کو بورڈ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کردیا۔ یہ ڈیپوٹیشن نومبر 2024 میں ختم ہو چکی تھی۔
نگران حکومت کے دور میں مہدی جان نے گریڈ 19 میں ترقی کے لیے اپنا کیس تیار کر لیا اور اس ضمن میں براہِ راست وزیرِ اعلیٰ کو درخواست دی جو واپس محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو بھیجی گئی۔ تاہم حیران کن طور پر اس وقت کے سیکرٹری تعلیم معتصم باللہ نے محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور چیف سیکرٹری آفس کو نظرانداز کرتے ہوئے براہِ راست وزیرِ اعلیٰ کے لیے نوٹ تیار کیا جسے نگران وزیرِ اعلیٰ نے جنوری 2024 میں منظور کر لیا، یوں مہدی جان گریڈ 19 میں سیکرٹری کی پوسٹ پر ترقی پا گئے۔
خیبرپختونخوا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایکٹ 1990 کے سیکشن 15(2) کے مطابق، امتحانی بورڈ میں چیئرمین، سیکرٹری اور کنٹرولر کی آسامیوں پر تعیناتی تین سال کیلئے صرف تبادلے کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے جس میں توسیع بھی ممکن ہے، جبکہ بورڈ کے اپنے ملازمین ان آسامیوں پر براہِ راست تعینات ہی نہیں ہو سکتے۔
کسی بھی محکمے میں ترقی کے لیے سینیارٹی لسٹ، خالی آسامی، مدتِ ملازمت اور دیگر قانونی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں، اس کو ورکنگ پیپر بھی کہا جاتا ہے لیکن مہدی جان کے کیس میں ان تقاضوں کو سرے سے درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا گیا۔
دسمبر 2025 میں حکومت نے مہدی جان کو سیکرٹری کی پوسٹ سے ہٹا کر بورڈ رپورٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اس کی ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ خود ڈیپوٹیشن کی مدت سے لاعلم تھا، حالانکہ ڈیپوٹیشن کی مدت تین سال ہوتی ہے جو نومبر 2024 میں ختم ہو چکی تھی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ اور بورڈ کو مہدی جان کی گریڈ 19 میں ترقی کا علم تب ہی ہوا جب اس نے مذکورہ تبادلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس کی مستقل بنیادوں پر گریڈ 19 میں سیکرٹری کی پوسٹ پر ترقی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہی محکمہ نے ترقی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے کر دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
رابطہ کرنے پر مہدی جان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی تقرری، ترقی اور سیکرٹری کی پوسٹ پر تعیناتی سب قواعد و ضوابط کے تحت ہوئی ہے جس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ مگر مزید سوالوں کے جواب نہیں دیے۔
خیبرپختونخوا بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ایکٹ 1990 کے رولز 2021 میں بنے لیکن 1995 میں بنائے گئے ایک کلینڈر یا ریگولیشن کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس نے بنایا۔ محکمہ اور بورڈ دونوں اس کلینڈر سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ مختلف ادوار میں ملازمین نے اس کا فائدہ اٹھایا اور حیران کن طور پر اس پر عملدرامد بھی ہوتا رہا۔ اور یہی کلینڈر یا ریگولیشن ایکٹ کے برعکس تھا جس پر دہائیوں تک محکمہ تعلیم اور بورڈ خاموش رہے۔
تاہم حکومت کو تعلیمی بورڈز کے قوانین کا جائزہ لینے اور اس میں کسی بھی سقم کو ختم کرنے کا خیال اب آیا۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
رابطہ کرنے پر چیئرمین پشاور بورڈ خدا بخش نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے انکوائری کے احکامات ہیں، سارے حقائق انکوائری میں سامنے آ جائیں گے، تاہم انہوں نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔