’’عمران خان کے دو موبائل فون چوری کر کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی تک کس نے پہنچائے تھے؟‘‘

’’عمران خان کے دو موبائل فون چوری کر کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی تک کس نے پہنچائے تھے؟‘‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے پارٹی کے سابق رہنما شہباز گل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز گل نے عمران خان کے دو موبائل فون چوری کر کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید تک پہنچائے تھے۔ 

جی ٹی وی (اے آر وائی نیوز) کے پروگرام  پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے بتایا کہ توشہ خانہ کیس کے دوران مختلف تحائف سے متعلق تفصیلات سامنے آتی تھیں کہ کس شخص نے کیا تحفہ لیا۔ ان کے مطابق جب تحائف کی فہرست منظرِ عام پر آئی تو اس میں درج تھا کہ سونے کا لوٹا بشریٰ بی بی کے نام پر جاری ہوا، تاہم وصول کنندہ کے طور پر شہباز گل کا نام درج تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بعد میں مزید حقائق سامنے آئے۔

شیر افضل مروت کے مطابق اُس وقت اسٹاف چیف کے عہدے پر فائز شہباز گل نے عمران خان کے دو موبائل فون بھی چوری کیے تھے اور یہ فون سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو پہنچائے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اس معاملے کی انکوائری شروع ہوئی تو یہ بات سامنے آئی کہ شہباز گل نے سونے کا لوٹا بھی چوری کیا تھا، تاہم وہ لوٹا کبھی بشریٰ بی بی تک نہیں پہنچ سکا۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے اہم رہنما کو نوٹس جاری کردیا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ طور پر یہ سونے کا لوٹا شہباز گل نے ایک ایسے شخص کو فروخت کیا جو پاکستان بھر میں بڑے پیٹرول پمپ نیٹ ورک کا مالک ہے۔ شیر افضل مروت کے مطابق موبائل فون اور سونے کا لوٹا چوری کرنے کے الزامات سامنے آنے پر شہباز گل کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

پروگرام کے دوران شیر افضل مروت نے سیاسی صورتحال اور مذاکرات سے متعلق بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی کا ایک دن پہلے ٹوئٹ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ پہلے مینڈیٹ چوری پر بات ہوگی، پھر مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ شیر افضل مروت کے مطابق عمران خان نے گزشتہ دو برسوں میں کبھی یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل اس شرط کو لازمی قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کے ٹوئٹ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کئی قدم پہلے ہی آگے بڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی میٹنگ کا مقصد صرف ڈائیلاگ کا آغاز ہے اور اس کمیٹی نے بات چیت کو عمران خان کی رہائی کی تحریک سے نہیں جوڑا۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ اگر آئینی پاسداری ہوتی تو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے لوگ یہاں ہوتے یا پی ٹی آئی میں ہوتے۔ انہوں نے کمیٹی کے اجلاس کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی شریک ہوئیں اور امکان ہے کہ آئندہ اجلاسوں میں اے این پی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی شرکت کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل کانفرنس: شیر افضل مروت کی بانی پی ٹی آئی کے فیصلوں پر تنقید

Related Articles