اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پنجاب اسمبلی میں داخلے کے حالیہ واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جن کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسمبلی میں داخل ہونے والے متعدد افراد کے پاس نہ تو اجازت نامے تھے اور نہ ہی قومی شناختی کارڈ موجود تھے۔
پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر ملک احمد خان نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور کارکنوں نے اسمبلی کے اندر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف نازیبا اور بے ہودہ زبان استعمال کی، جو ان کی ’ذہنی پستی‘ کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں اس طرح کا رویہ اور نامناسب حرکات کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ملک احمد خان نے انکشاف کیا کہ اسمبلی میں آنے والے افراد میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جو ماضی میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعے پر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے آنے والے بعض افراد نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس مائنڈ سیٹ کو مکہ مکرمہ جیسے مقدس مقام کا احترام نہ ہو، وہ اسمبلی کے تقدس کا کیا خیال کرے گا‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ مکہ اور مدینہ جیسے مقدس مقامات پر بھی نعرے بازی کرتے رہے ہیں۔
ملک احمد خان نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کی جڑیں پورے ملک میں ہونی چاہییں اور سیاسی اختلافات کے باوجود جماعتوں کے درمیان رابطے قائم رہنے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ رولز اور ضوابط سے بالاتر ہو کر کوئی بھی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اس ہاؤس کے تقدس کا حلف اٹھایا ہے اس لیے میں اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑوں گا۔ اس معاملے کو قانون نافذ کرنے والے ادارے دیکھیں گے اور انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ ہر معاملے میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ’ہمارا لیڈر گرفتار ہے‘، بانی پی ٹی آئی پر سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں، اس بنیاد پر اسمبلی کے تقدس کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو اسمبلی لایا گیا جن کے پاس نہ شناختی کارڈ تھا اور نہ ہی داخلے کا پاس۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے واضح کیا کہ ہر شخص کو پنجاب اسمبلی کے تقدس کا احترام کرنا ہوگا اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ لوگ مقدس مقامات کا احترام نہیں کرتے تو اسمبلی کا کیا احترام کریں گے‘۔
ملک احمد خان نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان ہمارا فخر ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی یا نعرے بازی ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سہیل آفریدی کے ساتھ پنجاب اسمبلی آنے والے افراد پر جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات درج ہیں اور سہیل آفریدی ایسے لوگوں کو ساتھ لائے جن کے پاس اجازت نامے اور قومی شناختی کارڈ موجود نہیں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والا واقعہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔