فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے فیفا اور ٹک ٹاک کے درمیان طے پانے والا معاہدہ عالمی فٹبال اور ڈیجیٹل میڈیا کی تاریخ میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق معاہدے کے تحت پہلی بار کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ورلڈ کپ کے ویڈیو مواد کے لیے باضابطہ طور پر ترجیحی پلیٹ فارم کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے بعد نہ صرف فٹبال شائقین کے لیے ورلڈ کپ دیکھنے اور اس سے جڑنے کے انداز میں تبدیلی آئے گی بلکہ ڈیجیٹل مواد کی تخلیق اور ترسیل کا نیا رجحان بھی سامنے آئے گا۔
فیفا اور ٹک ٹاک کے درمیان ہونے والے اس نئے معاہدے کے مطابق ٹک ٹاک کریئیٹرز کو 48 ٹیموں پر مشتمل فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران خصوصی رسائی حاصل ہوگی، جس کے ذریعے وہ ٹورنامنٹ کے مختلف پہلوؤں کو منفرد انداز میں دنیا بھر کے صارفین تک پہنچا سکیں گے۔
واضح رہے کہ یہ ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا اور اس کی میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر کریں گے، جو اسے فیفا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور جغرافیائی طور پر وسیع ٹورنامنٹ بناتا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سےفیفا ورلڈ کپ ٹرافی ٹور کا آغاز کردیا گیا
ورلڈ کپ کے میچز تینوں میزبان ممالک کے 16 مختلف شہروں میں منعقد ہوں گے، جن میں امریکا کے 11، میکسیکو کے تین اور کینیڈا کے 2 شہر شامل ہیں۔
فیفا کے مطابق اس معاہدے کے تحت وہ ادارے جو ورلڈ کپ کے براڈکاسٹ رائٹس رکھتے ہیں، ٹک ٹاک ایپ پر ایک مخصوص ہب کے ذریعے 104 میچز کے منتخب حصے لائیو اسٹریم کر سکیں گے، جس سے ڈیجیٹل ناظرین کو براہِ راست اور مختصر ویڈیو فارمیٹ میں میچز کے اہم لمحات دیکھنے کا موقع ملے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ مختلف ٹک ٹاک کریئیٹرز کو فیفا کے تاریخی آرکائیول فوٹیج تک رسائی بھی دی جائے گی، جس کے ذریعے وہ ماضی کے یادگار لمحات کو نئے اور تخلیقی انداز میں پیش کر سکیں گے۔
اس اقدام کا مقصد نوجوان نسل اور ڈیجیٹل صارفین کو فٹبال کے عالمی ایونٹ سے مزید قریب لانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کھیلوں کی مقبولیت اور کوریج میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوری جانب فیفا کی جانب سے معاہدے کی مالی تفصیلات، بولی کے عمل یا اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ لائیو اسٹریم کے دوران کون سا مواد دکھایا جائے گا، بالخصوص ایسے بڑے ٹورنامنٹ میں جہاں تجارتی شراکت داروں اور براڈکاسٹرز کے حقوق سخت شرائط کے تحت محفوظ کیے جاتے ہیں۔
اس پہلو سے میڈیا اور فٹبال حلقوں میں تجسس پیدا ہوا ہے کہ روایتی براڈکاسٹنگ ماڈل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈکپ 2026: آغاز سے قبل ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈز پاش پاش

