مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کےدرمیان جاری جنگ کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جیرالڈ فورڈ نامی جدید امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جنگی علاقے سے واپس بندرگاہ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ عروج پر ہے اور خطے میں عسکری سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بحری جہاز میں حال ہی میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے اس کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کیا۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جہاز کے مرکزی لانڈری ایریا میں لگنے والی آگ پر قابو پانے میں 30 گھنٹوں سے زیادہ وقت لگا، جس کے دوران ہنگامی اقدامات کیے گئے اور عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
واقعے میں 2 امریکی فوجی زخمی ہوئے، تاہم خوش قسمتی سے جہاز کے انجن اور بنیادی نظام محفوظ رہے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث 600 سے زیادہ اہلکار عارضی طور پر اپنے رہائشی حصوں سے محروم ہو گئے تھے، جبکہ اس طیارہ بردار جہاز پر مجموعی طور پر تقریباً 4500 اہلکار تعینات ہیں، جن میں پائلٹس، انجینیئرز اور دیگر تکنیکی عملہ شامل ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جیرالڈ فورڈ جدید ترین امریکی بحری اثاثوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی عارضی واپسی خطے میں امریکی بحری طاقت کے توازن پر اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خلیجی پانیوں میں فوجی تناؤ بڑھ رہا ہے۔
عباس عراقچی کا امریکا پر بڑا الزام
دوسری جانب ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں سے متعلق سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں امریکا پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب ہونے والے حملوں کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے اپنے فوجی اڈوں سے نکل کر شہری علاقوں اور ہوٹلوں میں پوزیشن لینا شروع کر دی ہے، جس کے باعث عام آبادی بھی خطرے کی زد میں آ گئی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں امریکی افواج یا ان کی تنصیبات موجود تھیں، انہیں نشانہ بنایا گیا، تاہم بعض مقامات شہری آبادی کے قریب ہونے کی وجہ سے نقصان عام لوگوں تک بھی پہنچا۔
انہوں نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کا ذمہ دار بھی امریکا کو قرار دیا اور کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بنیادی سبب امریکی اقدامات ہیں۔
روس ایران کو سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون ٹیکنالوجی، اہم معلومات فراہم کر رہا ہے، امریکی اخبار
ادھر ایک اور اہم انکشاف میں امریکی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ روس ایران کو سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماسکو نے تہران کے ساتھ عسکری تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس کا مقصد ایران کو خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے میں مدد دینا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تعاون سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان براہ راست تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس اس جنگ کے جاری رہنے میں اپنے اسٹریٹجک اور اقتصادی مفادات دیکھ رہا ہے، کیونکہ طویل تنازع اسے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے اور اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور سیکیورٹی پر گہرے ہو سکتے ہیں۔