سال 2026 میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جنوری میں تقریباً 253 روپے فی لیٹر سے لے کر اپریل کے اوائل میں تاریخی حد 458 روپے تک پہنچ گئی۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جغرافیائی کشیدگی کی وجہ سے یہ بڑھوتری ہوئی، جس نے تیل درآمد کرنے والے ملک پاکستان پر برا اثر ڈالا۔ ڈیزل کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح 520 روپے کے اوپر پہنچ گئیں۔
اپریل کے بعد قیمتیں کچھ حد تک کم ہوئیں اور مئی میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ برقرار رہیں، مگر سال کے آغاز کے مقابلے میں اب بھی بہت زیادہ تھیں، جس سے 2026 پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین ایندھن کے سالوں میں شامل ہو گیا۔
جنوری تا فروری: قیمتیں مستحکم
سال کا آغاز پیٹرول کی قیمت 253.17 روپے فی لیٹر پر ہوا، جو فروری کے آغاز تک مستحکم رہی۔ 16 فروری کو معمولی اضافہ ہوا اور قیمت 258.17 روپے فی لیٹر ہو گئی۔
مارچ: تدریجی اضافہ
مارچ کے آغاز میں قیمت 266.17 روپے فی لیٹر ہو گئی اور 7 مارچ کو یہ بڑھ کر 321.17 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی اور امریکی-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے اثرات تھے۔
3 اپریل کو قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ کر 458.40 روپے فی لیٹر پہنچ گئیں، جو اس ڈیٹا سیٹ کی بلند ترین سطح تھی۔ تاہم، صرف ایک دن بعد قیمتیں گر کر 378 روپے اور 10 اپریل کو 366 روپے فی لیٹر ہو گئیں۔ اپریل کے آخر میں قیمتیں دوبارہ بڑھ کر 393.35 روپے (25 اپریل) اور 399.35 روپے (30 اپریل) فی لیٹر ہو گئیں۔
مئی: اتار چڑھاؤ
مئی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا: 18 مئی کو قیمت بڑھ کر 414.78 روپے فی لیٹر ہو گئی، لیکن 16، 22 اور 29 مئی کو قیمتیں بالترتیب 409.78، 403.98 اور 381 روپے فی لیٹر ہو گئیں۔
مجموعی تجزیہ:
جنوری سے مئی تک، پیٹرول کی قیمتیں مجموعی طور پر بڑھیں۔ سال کے آغاز میں 253.17 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر مئی کے آخر تک قیمت 381 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، یعنی فی لیٹر 127.83 روپے کا اضافہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 میں پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہوا، جس نے صارفین پر مہنگائی کا دباؤ بڑھا دیا۔