امریکا کی جانب سے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی پر چین کا سخت ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور کثیر الجہتی تجارتی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فوج قومی استحکام کا ستون اور پاک چین دوستی و تعاون کی مضبوط محافظ ہے، چینی وزارت خارجہ
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جنگوں اور ٹیرف پالیسیوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، بلکہ ایسے اقدامات سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ یکطرفہ دباؤ اور پابندیاں نہ صرف عالمی تجارتی نظام کو کمزور کرتی ہیں بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی مشکلات میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ خودمختار ممالک کے درمیان معمول کا تجارتی تعاون قابلِ احترام ہونا چاہیے اور تجارت کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے تجارتی تعلقات جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا دورہ چین، چینی قیادت سے علاقائی صورتحال، سی پیک اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
بیان میں امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیاں ختم کرے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور کثیر الجہتی تعاون کا راستہ اختیار کرے۔ چینی وزارت خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو مشترکہ طور پر عالمی معیشت کے استحکام اور آزاد تجارت کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ دنوں ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اس اقدام سے توانائی، تجارت اور مالیاتی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق چین کا یہ ردعمل عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافے کی ایک اور علامت ہے۔

