عمران خان کو تین سال ہو چکے ،سیاسی رہنماؤں کو زیادہ عرصے تک قید میں نہیں رکھا جا سکتا،ندیم افضل چن

عمران خان کو تین سال ہو چکے ،سیاسی رہنماؤں کو زیادہ عرصے تک قید میں نہیں رکھا جا سکتا،ندیم افضل چن

پیپلزپارٹی کے رہنما اور ترجمان ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ رواں سال عمران خان کی رہائی ممکن ہے اور سیاسی مسائل کا حل صرف عدالتوں اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی نکلے گا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ عمران خان کو تین سال ہو چکے ہیں اور سیاسی رہنماؤں کو زیادہ عرصے تک قید میں نہیں رکھا جا سکتا اصل راستہ عدالتوں کا ہے اور جب حالات معمول پر آئیں گے تو عدالتی نظام بھی معمول کے مطابق کام کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے ہی بات کرنا ہوگی اور یہ عمل کسی ڈیل کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ سیاسی مکالمہ اور ڈائیلاگ ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کو بھی کوئی ڈیل نہیں کہتا، اس لیے سیاسی رابطے ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔

ندیم افضل چن نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری وہ صدر نہیں جو استعفیٰ دیں، اور نہ ہی ان سے استعفیٰ کی توقع کی جا سکتی ہےزرداری دباؤ میں زیادہ بہتر سیاسی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی سے متعلق بیرسٹر گوہرکا اہم بیان آگیا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے مختلف عمل جاری ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے بغیر نظام مکمل طور پر نہیں چل سکتا، کیونکہ ایک بڑی جماعت کو پہلے ہی سیاسی عمل سے دور رکھا گیا ہے۔

انہوں نے حکومت کے نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمرانی جمہوری سے زیادہ بیوروکریٹک انداز میں چل رہی ہےبظاہر سکون نظر آتا ہے لیکن اندرونی طور پر ایک بڑے سیاسی بحران یا لاوے کی کیفیت موجود ہے، انہوں نے مہنگائی، بیروزگاری اور زرعی شعبے کی صورتحال کو بھی شدید تشویشناک قرار دیا۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ جیسے ہی آئینی ترامیم کی بات ہوتی ہے تو قومی احتساب بیورو فعال ہو جاتا ہے مختلف اضلاع میں افسران کے غائب ہونے اور پھر بیانات کے بعد واپس آنے جیسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی کو گزشتہ پچاس سال سے کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم وہ اب بھی قومی سطح پر موجود ہے اور دباؤ کے بعد مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

editor

Related Articles