وفاقی حکومت نے عوام کو معیاری اور بلا معاوضہ طبی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کے تحت وفاقی صحت سہولت پروگرام کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی اب صحت کارڈ کی سہولت سے مستفید ہو سکیں گے،اس حوالے سے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی جانب سے باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں پروگرام سے منسلک تمام پینل ہسپتالوں کو ضروری ہدایات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
اسٹیٹ لائف کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق وفاقی صحت سہولت پروگرام کے تحت جاری کیے جانے والے ہیلتھ کارڈز 16 جنوری سے فعال ہو جائیں گے۔
اس مقصد کے لیے تمام پینل ہسپتالوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ سے قبل اپنے ہاں خصوصی ہیلتھ ڈیسک قائم کریں تاکہ مستحق افراد کو علاج کے دوران کسی قسم کی دشواری یا تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ڈیسک کے قیام سے مریضوں کی رہنمائی بہتر ہوگی اور خدمات کا معیار بھی برقرار رکھا جا سکے گا،مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پروگرام کے تحت اہل اور مستحق افراد کو بلاتعطل طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، علاج کی فراہمی کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے پینل ہسپتالوں کا باقاعدہ معائنہ بھی کیا جائے گا۔
اسٹیٹ لائف اور متعلقہ حکام نے ہسپتال انتظامیہ سے مکمل تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی فلاح کے اس منصوبے کی کامیابی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے،اسٹیٹ لائف کے مطابق وفاقی صحت سہولت پروگرام کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے تمام انتظامی اور تکنیکی اقدامات کیے جا رہے ہیں، پروگرام کا بنیادی مقصد عام شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے طبقات، کو معیاری علاج کی سہولت مفت فراہم کرنا ہے تاکہ مہنگے علاج کے باعث کسی خاندان کو مالی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔