مریم نواز سنٹر آف ایکسیلنس برائے آٹزم نے مختلف عہدوں پر بھرتیوں کے لیے اشتہار جاری کر دیا ہے، جس میں امیدواروں کو اعلیٰ ماہانہ تنخواہیں فراہم کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق اس ادارے نے پرنسپل، وائس پرنسپل، ڈویلپمنٹ بیہیوئر آفیسر، چارج نرس، لائف اسکل کوچز اور سنسری انٹیگریشن اسپیشلسٹ سمیت متعدد اہم عہدوں کے لیے بھرتی کا اعلان کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس سنٹر نے پرنسپل کے لیے ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ روپے مقرر کی ہے، جبکہ دو وائس پرنسپلز کے لیے ہر ایک کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ماہانہ ہوگی۔ ڈویلپمنٹ بیورو آفیسر کی عہدے کے لیے ماہانہ تنخواہ 2 لاکھ 85 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ مزید براں، دو چارج نرسز، دو لائف اسکل کوچز اور دو سنسری انٹیگریشن اسپیشلسٹس کو ہر ایک کو ماہانہ ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
ادارے کے دیگر سٹاف کے لیے بھی تنخواہیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں ڈرائیورز، باورچی، کنڈکٹرز، ہاؤس کیپنگ اسٹاف، سیکیورٹی گارڈز اور دیگر معاون عملہ شامل ہے، جن کی تنخواہیں ہزاروں روپے کی حدود میں ہیں۔
خصوصی تعلیم کے شعبے کے حکام نے بتایا کہ ان عہدوں کے لیے ہزاروں امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ذرائع کے مطابق درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد چھانٹی کیے گئے امیدواروں کو انٹرویوز کے لیے طلب کیا جائے گا۔ اس بھرتی مہم کا مقصد آٹزم کے مریضوں کے لیے معیاری تعلیم اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور ماہر عملہ تیار کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف سنٹر کی کارکردگی میں بہتری لانے میں مددگار ہوگا بلکہ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال کے معیار کو بھی بلند کرے گا۔ سنٹر نے امیدواروں سے درخواست کی ہے کہ وہ دی گئی اہلیت اور معیار کے مطابق اپنی درخواستیں جمع کرائیں تاکہ بھرتی کے عمل میں شفافیت اور معیار برقرار رہے۔
یہ بھرتیاں ملک میں خصوصی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، اور اس سے ہزاروں امیدواروں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جبکہ آٹزم کے مریضوں کے لیے بہتر تربیتی ماحول بھی فراہم کیا جائے گا۔