عالمی درجہ بندی میں پاکستانی پاسپورٹ کی نمایاں بہتری، وزیر داخلہ نے بڑی کامیابی قرار دیدیا

عالمی درجہ بندی میں پاکستانی پاسپورٹ کی نمایاں بہتری، وزیر داخلہ  نے بڑی کامیابی قرار دیدیا

 پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں  126 سے 98 نمبر پر آگیا ہے،  وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کو ملک کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق  سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں  نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ 126 ویں سے بہتر ہو کر 98 ویں پوزیشن پر آ گئی ہے۔

وزیرداخلہ محسن نقوی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ کا 126 سے 98 ویں نمبر پر آنا ایک مضبوط کامیابی ہے،  انشاء اللہ، بہتری کا یہ سفر اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں یہ مثبت پیشرفت مستقبل میں مزید بہتر نتائج کی بنیاد بنے گی۔

عالمی درجہ بندی کی اس پورٹ کے مطابق ایک بار پھر سنگاپور دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ قرار پایا ہے،  سنگاپور کے شہری 192 ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن ارائیول کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ سفری آزادی سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سنگاپور کی مضبوط معیشت، مستحکم سفارتی تعلقات اور عالمی اعتماد نے اسے یہ مقام دلایا ہے۔

فہرست میں دوسرے نمبر پر جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر موجود ہیں،  ان دونوں ممالک کے پاسپورٹس پر 188 ممالک تک ویزا فری یا آسان ویزا سہولت حاصل ہے۔

اس طرح ایشیائی ممالک نے ایک بار پھر عالمی سطح پر سفری آزادی میں اپنی برتری برقرار رکھی ہے، جو خطے کی بڑھتی ہوئی معاشی اور سفارتی طاقت کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند شہریوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

رپورٹ کے مطابق ٹاپ رینکنگ میں یورپی ممالک کا غلبہ برقرار ہے، تاہم غیر یورپی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ملائیشیا بھی نمایاں پوزیشنز پر موجود ہیں،  خاص طور پر متحدہ عرب امارات کو گزشتہ چند برسوں میں سفارتی سطح پر نمایاں پیش رفت کے باعث نمایاں بہتری ملی ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان کو 98ویں نمبر پر رکھا گیا ہے،  پاکستانی شہری اس وقت تقریباً 31 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں، جو محدود مگر قدرے بہتر سہولت سمجھی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اگرچہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم سفری آزادی میں نمایاں اضافے کے لیے مضبوط سفارتی تعلقات، معاشی استحکام اور عالمی سطح پر اعتماد کی فضا قائم کرنا ناگزیر ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *