حکومت نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی باضابطہ درخواست دیدی

حکومت نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی باضابطہ درخواست دیدی

حکومت نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو باضابطہ طور پر درخواست دے دی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا گیا ہے، جس میں بلدیاتی انتخابات کے موجودہ شیڈول کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول تبدیل، الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدرِ مملکت کی جانب سے نیا ‘لوکل گورنمنٹ آرڈیننس’ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے نافذ پرانا قانون تحلیل ہو چکا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ قانونی صورتحال میں پرانے قانون کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی طور پر ممکن نہیں رہا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ بلدیاتی انتخابات نئے نافذ شدہ قانون کے مطابق کرائے جائیں۔ اسی بنیاد پر حکومت نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے جاری کردہ شیڈول کو منسوخ کیا جائے اور نئے قانونی فریم ورک کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت بلدیاتی نظام، حلقہ بندیاں اور انتخابی طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے موجودہ شیڈول پر عمل درآمد سے قانونی پیچیدگیاں اور انتظامی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کردیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد مشاورت کرے گا اور اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے مستقبل سے متعلق حتمی فیصلہ دے گا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن وزارت داخلہ کے خط، نئے قانون اور آئینی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ سکتا ہے۔

سیاسی اور قانونی حلقوں کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے دارالحکومت میں مقامی حکومت کے نظام پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ شفاف اور آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابات کا انعقاد ہی اولین ترجیح ہے، چاہے اس کے لیے شیڈول میں تبدیلی کیوں نہ کرنی پڑے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *