طالبان رجیم میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی، زندگی خوف میں محصور

طالبان رجیم میں  بنیادی انسانی حقوق کی بدترین  پامالی،  زندگی خوف میں محصور

طالبان کی عوام دشمن پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالی نے افغانستان کو شدید انسانی المیے کی طرف دھکیل دیا ۔

شرپسند افغان ٹولے نے ناجائز تسلط برقراررکھنے کیلئے جابرانہ ہتھکنڈوں کواپنا وطیرہ بنا لیا۔

افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق طالبان رجیم کے بڑھتے تشدد اور دبا پر عوام خوف اور تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں ، ٹیکسی گاڑیوں میں خواتین کو لے جانے پر پابندی ، ڈرائیورطالبان کے خوف سے اکثر انکار کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : افغان مہاجرین یورپ کیلئے سکیورٹی رسک، سویڈن نے بھی الٹی میٹم دیدیا

افغان جریدے کے مطابق افغان طالبان رجیم میں سرکاری ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے بلا جواز گرفتار کیا جا رہا ہے ، طالبان کی وزارت نے گریجویشن تقریب میں میڈیکل طلبہ کو تضحیک کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

افغان طالبان نے ‘علاقائی پاسپورٹ’ فارم کے ذریعے عوام سے بار بار معلومات جمع کر کے نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی قائم رکھی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی نقل و حرکت پر پابندی، ملازمین کی بلاجواز گرفتاری اور مسلسل نگرانی نے افغان عوام کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، افغان طالبان کی عوام دشمن پالیسیاں، نفسیاتی دبا اور مسلسل نگرانی نے ایک پوری نسل کو خوف، اضطراب اور انسانی المیے کی طرف دھکیل دیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *