پی ٹی آئی کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا ہوا؟، اندر کی خبر باہر آگئی

پی ٹی آئی کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا ہوا؟، اندر کی خبر باہر آگئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس بدنظمی اور اندرونی اختلافات کی نذر ہو گیا، خیبرپختونخوا ہاؤس میں بلائے گئے اجلاس کے دوران شدید تلخ کلامی کے باعث پارٹی قیادت اور ارکان کو اجلاس ادھورا چھوڑنا پڑا، جس کے بعد اجلاس ایک روز کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کے آغاز پر ہی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور خاتون سینیٹر ڈاکٹر زرقا سہروردی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، شاہد خٹک نے ڈاکٹر زرقا کی اجلاس میں شرکت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ نے 26 ویں آئینی ترمیم میں حکومت کا ساتھ دیا، اس لیے آپ میری موجودگی میں اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات میں مزید شدت، 25 اہم اراکین کو شوکاز نوٹس جاری

میڈیا رپورٹ کے مطابق شاہد خٹک نے واضح الفاظ میں کہا کہ آپ نے پارٹی مؤقف کے برخلاف ووٹ دیا، اس لیے آپ کو اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جس پر ڈاکٹر زرقا سہروردی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 26 ویں ترمیم میں حکومت کو ووٹ نہیں دیا اور ان پر لگایا گیا الزام بے بنیاد ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر زرقا سہروردی کے اجلاس سے باہر جانے سے انکار پر ماحول مزید کشیدہ ہو گیا، جس کے بعد شاہد خٹک غصے میں اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، صورتحال بگڑتی دیکھ کر دیگر ارکان نے بھی اجلاس میں بیٹھنا مناسب نہ سمجھا اور وہ بھی باہر نکل گئے۔

مزید پڑھیں:افغان، تاجکستان سرحد پر صورتحال انتہائی سنگین، چین کا اپنے شہریوں کو فوری انخلا کا انتباہ

میڈیا رپورٹ کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پیش آنے والی اس صورتحال نے پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے، جس کے باعث پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ایک روز کے لیے ملتوی کر دیا گیا، جبکہ ایجنڈے پر موجود اہم امور پر کوئی بات نہ ہو سکی۔

اجلاس میں محمود اچکزئی، راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور عامر ڈوگر سمیت اہم رہنما شریک تھے، تاہم کشیدہ ماحول کے باعث کوئی باضابطہ فیصلہ نہ ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران میں مظاہرین کے خلاف پولیس کا بڑا منصوبہ

رپورٹ کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا، جس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی، پارلیمانی معاملات اور اندرونی اختلافات کو حل کرنے پر بات کی جائے گی، تاہم حالیہ واقعے نے پارٹی میں پائی جانے والی گروپ بندی اور قیادت کے درمیان فاصلے کو مزید واضح کر دیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *