افغان، تاجکستان سرحد پر صورتحال انتہائی سنگین، چین کا اپنے شہریوں کو فوری انخلا کا انتباہ

افغان، تاجکستان سرحد پر صورتحال انتہائی سنگین، چین کا اپنے شہریوں کو فوری انخلا کا انتباہ

چین کے تاجکستان میں قائم سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر حالیہ جھڑپ کے بعد سیکیورٹی صورتحال انتہائی سنگین اور پیچیدہ ہو چکی ہے، سفارت خانے نے اس صورتحال کو چینی شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری احتیاطی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں مقیم یا کام کرنے والے تمام چینی شہری اور کمپنیاں حالات پر گہری نظر رکھیں، اپنی سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنائیں اور منظم انداز میں ان علاقوں کو جلد از جلد چھوڑ دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:مفتاح اسماعیل کی وفاق اور صوبوں کے لیے اہم تجاویز

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ موجودہ حالات غیر یقینی اور تیزی سے بدل رہے ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، سفارت خانے نے واضح کیا کہ چینی شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں۔

یہ انتباہ تاجکستان کی اسٹیٹ کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اتوار کے روز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک دہشت گرد گروہ سے وابستہ چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، حکام کے مطابق یہ افراد سرحد پار سے تخریبی کارروائی کی نیت سے داخل ہونا چاہتے تھے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان تاجکستان سرحدی علاقوں میں چینی شہریوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، 26 نومبر 2025 کو تاجکستان کے صوبہ ختلان کے سرحدی قصبے شمسی الدین شاہین میں ایک مسلح حملے کے نتیجے میں 3 چینی شہری ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا تھا، جس نے بیجنگ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔

اسی علاقے میں 30 نومبر کو ایک اور مسلح حملہ پیش آیا تھا جس میں بھی چینی شہری متاثر ہوئے، ان واقعات کے بعد چین کی جانب سے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا اور تاجک حکام سے شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:ایران میں مظاہرین کے خلاف پولیس کا بڑا منصوبہ

سیاسی اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال اور سرحدی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہ خطے کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں، جس کے اثرات وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مفادات پر بھی پڑ رہے ہیں۔

ان مسلسل واقعات کے بعد چین نے ایک بار پھر اپنے شہریوں اور اداروں کو محتاط رہنے، غیر محفوظ علاقوں سے دور رہنے اور اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سفارت خانے نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *