پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات میں مزید شدت، 25 اہم اراکین کو شوکاز نوٹس جاری

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات میں مزید شدت، 25 اہم اراکین کو شوکاز نوٹس جاری

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا نے پشاور جلسے میں مطلوبہ تعداد میں کارکن نہ لانے پر تحریک انصاف کی ضلعی تنظیم کے 25 اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں، ان اراکین میں سے کئی نے استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے پشاور میں منعقدہ جلسے میں مطلوبہ تعداد میں کارکن نہ لانے پر سخت ایکشن لے لیا ہے  اور ضلعی تنظیم کے 25 اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں، جبکہ نوٹس کے اجرا کے بعد پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بے چینی اور خلفشار کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ میں پی ٹی آئی جلسہ مشکلات کا شکار، آغاز سے قبل اسٹیج پر نصب دیوقامت بورڈ گر گیا

رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 7 دسمبر کو پشاور کے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں جلسہ منعقد کیا تھا، جس سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی خطاب کیا تھا۔ تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے طے شدہ ہدف کے مطابق کارکنوں کی شرکت نہ ہونے پر ضلعی تنظیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پارٹی قیادت نے جلسے میں مطلوبہ تعداد میں کارکن نہ لانے پر ضلعی تنظیم کے 25 عہدیداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’ضلعی تنظیم کے عہدیداروں نے پارٹی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا اور کارکنوں کو جلسہ گاہ تک لانے میں ناکام رہے‘۔

نوٹس میں تمام متعلقہ اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 3 دن کے اندر اپنی وضاحت پیش کریں، جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ’اگر وضاحت تسلی بخش نہ ہوئی تو متعلقہ عہدیداروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق شوکاز نوٹس کے اجرا کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور کئی ضلعی عہدیداروں نے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے استعفے بھی پیش کر دیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت استعفوں اور وضاحتوں کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی جلسہ، کسی بھی شخص کو رہائش، کھانا، یا کسی قسم کا سامان نہ دیا جائے گا، پولیس حکام

واضح رہے کہ یہ اقدام پاکستان تحریک انصاف کی تنظیمی سطح پر سخت پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد آئندہ جلسوں اور سرگرمیوں میں کارکنوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانا ہے، تاہم اس فیصلے سے پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط پر مزید اثرات مرتب ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related Articles