ایران میں مظاہرین کے خلاف پولیس کا بڑا منصوبہ

ایران میں مظاہرین کے خلاف پولیس کا بڑا منصوبہ

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا گیا ہے، ایرانی قومی پولیس کے سربراہ احمد رضا رادان نے مظاہروں میں شریک افراد کو 3 دن کے اندر سرنڈر کرنے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس چیف نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے بعد کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور قانون پوری سختی سے حرکت میں آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا پر قبضہ، ایران میں شدید مظاہرے، کیا بابا وانگا کی تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی سچ ہونے جارہی ہے؟

احمد رضا رادان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان جو دھوکے میں آ کر احتجاجی مظاہروں کا حصہ بنے، انہیں دشمن نہیں بلکہ گمراہ افراد سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے افراد مقررہ وقت کے اندر خود کو قانون کے حوالے کر دیتے ہیں تو ان کے ساتھ نرمی برتی جائے گی، تاہم جو عناصر ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے رہیں گے، ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

پولیس چیف نے اپنے خطاب میں بیرونی طاقتوں پر بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ بعض دشمن عناصر ایران میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ادارے صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی کو ملک کے امن و استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واضح رہے کہ دسمبر کے آخر میں ایران میں مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو گئے۔ ان مظاہروں کے دوران مختلف شہروں میں جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ متعدد افراد کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں:مظاہروں کے دوران اموات کے ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں،ایرانی سپریم لیڈر

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہرے ایرانی قیادت کے لیے حالیہ برسوں کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیے جا رہے ہیں، کیونکہ احتجاج صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض مقامات پر حکومت مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *