وزیرِاعظم شہباز شریف نے دہشتگردی، قومی سلامتی اور علاقائی استحکام پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا اور کہا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردوں کو لا کر پاکستان میں بسانے کا فیصلہ ایک سنگین غلطی تھی، جو ملک میں دہشتگردی کے دوبارہ ابھرنے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔
منگل کو قومی ورکشاپ کے دوران خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے سوال اٹھایا کہ کس نے افغانستان سے ہزاروں افراد کو پاکستان میں آباد ہونے کی اجازت دی اور کس کے فیصلے کے تحت سوات سے سینکڑوں دہشت گردوں کو رہا کیا گیا اور کہا کہ ان اقدامات کے قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2018 تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں غلط فیصلوں کے باعث حاصل کی گئی کامیابیاں ضائع ہو گئیں۔ وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن ایک اجتماعی قومی فیصلہ تھا اور آج بھی ریاست اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہے۔
افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے بتایا کہ متعدد ملاقاتیں ہوئیں، تاہم وہ پاکستان کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ یہ صوبہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے اور مسلسل سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ مرکز اور صوبے کے درمیان ’سرد جنگ‘ کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت اور صوبے مل کر کام کر رہے ہیں اور تمام سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی موجود ہے۔
خیبر پختونخوا کو ایک تزویراتی صوبہ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے وہاں کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے ملک کے امن و امان کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔
علاقائی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال مئی میں بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے دشمن کے سات طیارے مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ملکی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
وزیرِاعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ داخلی اور خارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کا مکمل اور مستقل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔