بھارت، بنگلہ دیش کشیدگی مزید سنگین، مودی سرکار نے بڑا مخاصمانہ قدم اٹھا لیا

بھارت، بنگلہ دیش کشیدگی مزید سنگین، مودی سرکار نے بڑا مخاصمانہ قدم اٹھا لیا

بھارت نے بنگلہ دیش کو سفارتی تعیناتی کے حوالے سے ’نان فیملی‘ رجسٹرڈ ملک قرار دیتے ہوئے وہاں تعینات اپنے سفارتکاروں اور سفارتی عملے کے اہلخانہ کو واپس بلا لیا ہے۔

 عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے تحت آئندہ بنگلہ دیش میں تعینات ہونے والے بھارتی سفارتکار اور عملہ اپنے اہلخانہ، جن میں بیوی اور بچے شامل ہیں، کو ساتھ رکھنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے یہ فیصلہ یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو چکا ہے اور بنگلہ دیش میں پہلے سے تعینات بھارتی حکام کو باقاعدہ طور پر مطلع کر دیا گیا تھا کہ ان کے اہلخانہ 8 جنوری تک وطن واپس روانہ ہو جائیں۔ تاہم جن سفارتکاروں اور عملے کے بچوں کی تعلیم بنگلہ دیشی اسکولوں میں جاری تھی، انہیں وطن واپسی کے لیے اضافی 7 دن کی مہلت دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:بابر اعظم اور اسٹیو اسمتھ تنازع سے متعلق موئیسس ہنریکس کا اہم انکشاف

نتیجتاً 15 جنوری تک ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا، سلہٹ اور راجشاہی میں تعینات بھارتی افسران اور سفارتی عملے کے خاندانوں کو محدود وقت میں بنگلہ دیش چھوڑنا پڑا، جس کے باعث متعدد خاندانوں کو انتظامی اور تعلیمی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت دنیا کے صرف 4 ممالک، پاکستان، افغانستان، عراق اور جنوبی سوڈان، کو سفارتی تعیناتیوں کے لیے ’نان فیملی‘ قرار دے چکا تھا اور حالیہ فیصلے کے بعد بنگلہ دیش بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق کسی پڑوسی اور قریبی تجارتی شراکت دار ملک کو اس فہرست میں شامل کرنا ایک غیر معمولی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے تاحال اس فیصلے کی وجوہات یا تفصیلات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے متعدد ذرائع نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے اسے اندرونی سیکیورٹی  سے متعلق انتظامی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:ایسا کیا تو سیدھا جیل جاؤ گے، سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم خبرآگئی

بنگلہ دیش میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر پیناکا رنجن چکرورتی کا کہنا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ یہ فیصلہ فروری 2026 میں متوقع بنگلہ دیشی عام انتخابات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق انتخابات سے قبل ملک میں سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات میں اضافے کا اندیشہ پایا جاتا ہے، جس کے باعث بھارتی ہائی کمیشن اور اس کے ملازمین کے اہلخانہ کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پیناکا رنجن چکرورتی نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ انتخابات سے قبل بھارت کا ایسا فیصلہ کرنا غیر معمولی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ جیسی بڑی سیاسی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ ملنے پر پہلے ہی شدید تنازع موجود ہے اور یہ صورتحال سکیورٹی ماحول کو مزید حساس بنا سکتی ہے۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے دوطرفہ تعلقات پر اثرات کا بغور جائزہ لیا جائے گا جبکہ آنے والے مہینوں میں بنگلہ دیش کی داخلی سیاسی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی حالات اس فیصلے کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *