پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کار ، بھتہ دیتی ہے،ڈاکٹر عباد اللہ کا الزام

پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کار ، بھتہ دیتی ہے،ڈاکٹر عباد اللہ کا الزام

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے پاکستان تحریک انصاف پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو دہشت گردوں کو لائے اور انہیں بھتہ دیتے رہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو 800 ارب روپے سے زائد کے فنڈز فراہم کیے گئے، اس کے باوجود آج تک صوبے میں ایک فرانزک لیبارٹری تک قائم نہیں کی جا سکی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) قائم ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ صوبہ جو سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار رہا، وہاں آج تک سی ٹی ڈی قائم نہیں کی گئی۔

ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی نہ صوبے پر توجہ ہے اور نہ ہی عوام پر۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت امن و امان قائم نہیں کر سکتی اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے تو اسے اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر، زبیر نیازی سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار

انہوں نے مزید کہا کہ جب افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے، جنہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران طالبان کے کابل پر قبضے کو ’’یومِ فتح‘‘ قرار دیا۔ بعد ازاں انہی طالبان کو پاکستان واپس لایا گیا، حالانکہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان انہی کے دور میں بنا تھا، جس کے تحت دہشت گردوں کو افغانستان دھکیلا گیا تھا۔ پھر انہیں واپس لا کر یہاں تک کہا گیا کہ انہیں وزارتیں اور دفاتر بھی دیے جائیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو برسوں کے دوران نہ کوئی نیا تعلیمی ادارہ بنایا گیا اور نہ ہی کوئی ڈسپنسری قائم کی گئی۔ دیگر صوبے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا نے ریورس گیئر لگا دیا ہے۔

فاٹا اصلاحات کے فنڈز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاق اور صوبے دونوں میں عمران خان کی حکومت تھی، این ایف سی میں بھی ان کے نمائندے شامل تھے، مگر اس کے باوجود فاٹا کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ جب تیراہ میں طالبان داخل ہوئے تو فورسز نے مقامی عوام کا جرگہ بلایا تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ صوبائی حکومت نے معاہدہ تو کیا، لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اگر اس وقت طالبان کے خلاف آپریشن کر لیا جاتا تو آج حالات بہتر ہوتے، کیونکہ اس وقت موسمی شدت کے باعث وہاں صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *