بھارت میں خطرناک نیپا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے فروری میں شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی اسپورٹس کمیونٹی میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ اگر وائرس پر قابو نہ پایا گیا تو بڑے ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ابتدائی طور پر پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں خصوصی طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔ وائرس کی شدت کے باعث حکام نے سو سے زائد افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے تاکہ مزید پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے، لیکن اس کے باوجود وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات بدستور موجود ہیں۔
نیپا وائرس کے پھیلاؤ نے نہ صرف صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے بلکہ عالمی ایونٹ کی تیاریوں میں بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ حکومت، کھیلوں کے منتظمین اور صحت کے ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم وائرس کی رفتار کی وجہ سے اس بات پر شبہ پیدا ہو گیا ہے کہ فروری میں شیڈول کے مطابق ایونٹ بآسانی منعقد ہو پائے گا
یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کے درمیان 3 میچز، تاریخیں سامنے آگئیں
عالمی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار اور حکومتی اقدامات یہ طے کریں گے کہ ایونٹ میں کیا رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس دوران کھلاڑیوں، سٹاف اور ناظرین کے لیے بھی اضافی احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیپا وائرس انتہائی خطرناک ہے اور اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول نہ کرنے کی صورت میں مقامی اور بین الاقوامی ایونٹس میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

