پاکستان میں کونسی فریکوئنسی والی موبائل ڈیوائسز پر 5G انٹرنیٹ چلے گا، پی ٹی اے نے تفصیل بتا دی

پاکستان میں کونسی فریکوئنسی والی موبائل ڈیوائسز پر 5G انٹرنیٹ چلے گا، پی ٹی اے نے تفصیل بتا دی

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت استعمال ہونے والے تقریباً 80 فیصد موبائل فونز پہلے ہی فائیو جی سروس کے لیے درکار فریکوئنسی بینڈز کو سپورٹ کرتے ہیں، جبکہ ملک اپنی تاریخ کی پہلی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے قریب پہنچ رہا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں پی ٹی اے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ میں موجود بڑی تعداد میں موبائل فونز 2300 میگا ہرٹز اور 2600 میگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈز کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، جو فائیو جی آپریشن کے لیے اہم مڈ بینڈ اسپیکٹرم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بینڈز نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز، فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کا اہم حصہ ہیں، جس کے فروری 2026 کے اختتام تک ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی پروموشن سے متعلق سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت نے 2025 تا 26 کو پاکستان میں فائیو جی کے قومی منتقلی دور کے طور پر نامزد کیا ہے۔ اسی سلسلے میں پی ٹی اے نے 9 جنوری 2026 کو انفارمیشن میمورنڈم جاری کیا، جس میں نیلامی کے قواعد، دستیاب اسپیکٹرم بلاکس اور اہلیت کے تقاضوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ ممکنہ بولی دہندگان کو مطلوبہ دستاویزات مکمل کرنے کے لیے تقریباً 45 دن دیے گئے ہیں۔

متوقع نیلامی میں 6 گیگا ہرٹز سے کم فریکوئنسی پر تقریباً 597.2 میگا ہرٹز اسپیکٹرم شامل ہوگا، جس میں 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز شامل ہیں۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق اضافی اسپیکٹرم کی دستیابی نہ صرف فائیو جی کے آغاز میں مدد دے گی بلکہ موجودہ فور جی سروسز میں بھی نمایاں بہتری لائے گی۔

تاہم، ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ذرائع نے پروپاکستانی کو بتایا ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار مبالغہ آمیز ہو سکتے ہیں اور یہ دعویٰ مکمل طور پر درست نہیں۔

پی ٹی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیلامی کے بعد اوسط فور جی ڈیٹا اسپیڈ موجودہ تقریباً 4 ایم بی پی ایس سے بڑھ کر 20 سے 25 ایم بی پی ایس تک پہنچ سکتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں نیٹ ورک پر دباؤ زیادہ ہے۔ مڈ بینڈ اسپیکٹرم کی دستیابی سے آپریٹرز کو گنجائش بڑھانے اور صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، حتیٰ کہ مکمل فائیو جی لانچ سے پہلے ہی۔

نیلامی کے فریم ورک کے تحت فائیو جی کمرشل سروسز کے لیے لازمی کوالٹی آف سروس شرائط بھی شامل ہوں گی۔ پی ٹی اے ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر فائیو جی سروسز کم از کم 50 ایم بی پی ایس ڈاؤن لنک اسپیڈ فراہم کریں گی، جبکہ نیٹ ورکس کی ترقی کے ساتھ رفتار میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں:انٹرنیٹ صارفین کے لیے خوشخبری، ملک میں فائیو جی سروس سے متعلق اہم خبر

2300 میگا ہرٹز بینڈ شہری علاقوں میں کوریج اور گنجائش کے درمیان توازن فراہم کرے گا، جبکہ 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز زیادہ ڈیٹا اسپیڈ اور کم لیٹنسی کے لیے استعمال ہوں گے، خاص طور پر زیادہ رش والے علاقوں میں۔

کمرشل فائیو جی سروسز کا آغاز نیلامی کے چھ سے سات ماہ بعد متوقع ہے۔ ابتدائی کوریج اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں دی جائے گی۔ نیلامی کی شرائط کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو فائبر ٹو دی سائٹ انفراسٹرکچر کو موجودہ 20 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد تک لے جانا ہوگا، جس سے پاکستان میں موبائل براڈ بینڈ سروسز کی طویل المدتی بہتری کی بنیاد رکھی جائے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *