ایران میں جاری ملک گیر احتجاج اور مظاہروں کے دوران قومی کرنسی ریال مسلسل گراوٹ کے بعد تمام سابقہ ریکارڈ توڑ گئی ہے،عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایک ریال کی قدر میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کے بعد ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر 15 لاکھ ریال تک جا پہنچی ہے۔
اسی طرح وہاں ایک پاکستانی روپیہ ایرانی ریال کے مقابلے میں3909کا ہوگیا ہے،ایرانی ریال کی یہ تاریخی گراوٹ ملک میں جاری شدید اقتصادی بحران کی عکاسی کرتی ہے جو خاص طور پر اوپن مارکیٹ میں زیادہ واضح طور پر سامنے آ رہی ہے
ماہرین کے مطابق ایرانی کرنسی کی مسلسل تنزلی کی بڑی وجوہات میں بین الاقوامی پابندیوں کے باعث تیل کی برآمدات میں کمی شامل ہے، جس کی وجہ سے ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
حکومتی اقتصادی پالیسیوں اور آزاد مارکیٹ و سرکاری نرخوں میں فرق نے کرنسی کے نظام میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس سے ریال کی قدر مزید متاثر ہو رہی ہے،یاد رہے کہ گزشتہ برس ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 8 لاکھ 17 ہزار ریال تھی تاہم اس کے بعد سے کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
ریال کی گراوٹ کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس سے خوراک، رہائش اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
اقتصادی دباؤ کے باعث عوام کے لیے بنیادی ضروریات کی اشیا خریدنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ اجناس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوامی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ریال کے تاریخی زوال کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں مزید شدت آ گئی ہے۔
تاجر، دکاندار اور بازار مالکان ہڑتال پر چلے گئے ہیں اور متعدد شہروں میں بازار بند دیکھے گئے ہیں،ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتی کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔