پنجاب حکومت نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کم آمدن والے طبقے کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانے کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے 47 ارب روپے مالیت کے نگہبان رمضان پیکیج کے تحت صوبے بھر میں لاکھوں مستحق خاندانوں کو مالی اور اشیائے خورونوش کی صورت میں سہولت فراہم کی جائے گی۔
نجی ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق اس پروگرام سے 42 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے، جبکہ یہ پیکیج خصوصی طور پر ایسے خاندانوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جن کی ماہانہ آمدن 45 ہزار روپے سے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ رمضان المبارک کے دوران عام آدمی کو بنیادی ضروریات با آسانی اور مناسب قیمت پر دستیاب ہوں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت رمضان المبارک کے آغاز سے پانچ روز قبل خصوصی رمضان سہولت بازار قائم کرے گی، جہاں روزمرہ استعمال کی اشیاء، جیسے آٹا، چینی، دالیں، گھی، چاول، سبزیاں اور دیگر ضروری سامان رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جائے گا ان بازاروں میں اشیاء کے معیار اور قیمتوں کی سخت نگرانی کی جائے گی تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر راشن کارڈ اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے نقد امداد بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اشیاء خرید سکیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو قطاروں اور اضافی مشکلات سے بچایا جائے اور انہیں باوقار انداز میں مدد فراہم کی جا سکے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ رمضان المبارک کے دوران منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ناجائز منافع کمانے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ بازاروں میں قیمتوں اور سپلائی کی کڑی نگرانی کریں۔
نگہبان رمضان پیکیج کو حکومت پنجاب کی جانب سے معاشی دباؤ میں پسے عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ کی دستیابی کو یقینی بنانا اور عام شہری کو ممکنہ حد تک سہولت فراہم کرنا ہے۔