اب سائنسدانوں نے ماننا شروع کر دیا ہے کہ ہماری عمر کا طویل ہونا یا مختصر ہونا ہمارے اختیار میں نہیں۔ یہ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے۔ اب سائنسدان خود بتا رہے ہیں کہ ہمارے جینوم میں لکھا ہوتا ہے کہ ہم کتنا جئیں گے۔
تفصیلات کے مطابق سائنسدانوں نے اب اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے کہ عمر کا طویل یا مختصرہونا ہمارے اختیار میں نہیں بلکہ یہ پہلے ہی لکھاجاچکاے۔ ہم اس لکھے ہوئے کو کچھ زیادہ نہیں بڑھا سکتے، کم البتہ کر سکتے ہیں۔
ہم میں سے بعض لوگوں کی عمر دوسروں سے زیادہ کیوں ہوتی ہے اور کچھ کی عمر دوسروں سے کافی کم کیوں ہوتی ہے، سائنسدان اس راز کو سمجھنے میں آخر کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں کی لمبی عمر کے پیچھے چھپا راز جان لیا گیا ہے۔ یہ راز ہمارے جینوم میں چھپا ہے۔
طبی سائنسدان طویل عرصے سے جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ کچھ افراد لمبے عرصے تک زندہ رہتے ہیں جبکہ کچھ بطاہر صحت مند زدگی گزارتے گزارتے اچانک بیمار پڑتے، زیادہ بیمار ہوتے اورہمارے دیکھتے ہی دیکھتے جہانِ فانی سے گزر جاتے ہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے، سب انسانوں کی عمر کیسے بڑھائی جا سکتی ہے، مختصر عمر کا پہلے پتہ چلا کر ایسے افراد کی موت کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے؛ طبی سائنس کے ماہرین صدیوں سے ان سوالات سے الجھتے رہے ہیں۔ اب جواب کسی حد تک مل گیا ہے۔
پہلے ہمارا یہ ماننا تھا کہ طویل زندگی کا راز طرز زندگی کے عناصر کے انتخاب میں چھپا ہوتا ہے مگر اب دریافت ہوا کہ ہمارا جینوم ہماری عمر طے کرنے میں زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بھی پڑھیئے: پال سٹرلنگ دنیا میں سب سے زیادہ ٹی ٹوینٹی میچ کھیلنے والے کرکٹر بن گئے اب یہ کھل رہا ہے کہ ہمارے جین (جینوم) ہماری عمر کی مدت کے حوالے سے گزشتہ اندازوں سے دوگنا زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نئی تحقیق میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ لمبی عمر کا راز پیچیدہ عناصر پر مشتمل ہوتا ہے جیسے کولیسٹرول کی سطح یا ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ، اور کسی فرد کی زندگی کی مدت کے حوالے سے جینز کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔
جرنل سائنس میں شائع ہوئی اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ گزشتہ تحقیقی رپورٹس میں جینز کے اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا تھا کیونکہ ان میں اکثر 19 ویں صدی سے قبل پیدا ہونے والے افراد کے ڈیٹا پر انحصار کیا گیا تھا۔ اس خاص وقت سے تعلق رکھنے والے افراد عموماً وبائی امراض اور حادثات کے نتیجے میں انتقال کر جاتے تھے اور ویکسنز سمیت دیگر شعبوں میں طبی سائنس بہت زیادہ پیشرفت نہیں کرسکی تھی۔
ہم کتنا جئیں گے: 55فیصد پہلے سے طے ہے! اب نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہماری زندگی کی مدت کا 55 فیصد حصہ پہلے سے طے ہوتا ہے جبکہ باقی 45 فیصد غیریقینی ہوتا ہے۔ اچھا طرز حیات زندگی کو پانچ سال ہی بڑھا سکتا ہے یہ نئی تحقیق کر کے نتائج شائع کرنے والے ریسرچرز کے مطابق طرز زندگی کے عناصر جیسے ورزش، غذا اور سماجی تعلقات کسی فرد کی عمر کے جینیاتی اثر سے ہٹ کر اثرات مرتب کرتے ہیں اور زندگی کی مدت میں 5 سال کا اضافہ یا کمی کرتے ہیں۔
ان ریسرچرز نے بتایا کہ سردست یہ کہا جاسکتا ہے کہ صرف جینز ہی عمر کا تعین کرنے کے حوالے سے واحد عنصر نہیں ہیں، کچھ نہ کچھ ہمارے اپنے فیصلوں اور طرز حیات اور اعمال پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد کی عمر جینیاتی طور پر 80 سال طے ہے وہ صحت کے لیے مفید عادات کے ذریعے اسے 85 سال کرسکتا ہے یا نقصان دہ عادات سے 75 سال تک گھٹا بھی سکتا ہے۔
یہ بات قدرے مایوس کن ہے کہ حالی ہتحقیق کرنے والے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ صرف صحت مند عادات آپ کی جینوم میں لکھی ہوئی متوقع 80 عمر کو 100 سال تک نہیں پہنچاسکتیں، کیونکہ جینز پہلے سے عمر کا تعین کرچکے ہیں۔