نیپاہ وائرس کیسے پھیلتا ہے اور اسکی علامات کیا ہیں؟ محکمہ صحت کی ایڈوائزری جاری

نیپاہ وائرس کیسے پھیلتا ہے اور اسکی علامات کیا ہیں؟ محکمہ صحت کی ایڈوائزری جاری

بھارت میں نیپاہ وائرس پھیلنے کے بعد محکمہ صحت سندھ نے ایڈوائزری جاری کردی۔

ایڈوائزری کے مطابق یہ وائرس جانوروں سے انسانوں اورانسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا وائرس ہے تاہم پاکستان میں نیپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، جسم میں درد اور الٹی شامل ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، تمام سرکاری و نجی اسپتال الرٹ ہیں، وفاقی وزارت صحت کی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کی کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نپاہ وائرس کی شرح اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے اور یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

 نپاہ وائرس کیا ہے؟ نپاہ وائرس ایک نایاب مگر مہلک وائرس ہے، یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ انسانی رابطے یا آلودہ کھانے کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ وائرس کا قدرتی میزبان فروٹ بیٹس ہیں، اور یہ دیگر جانوروں جیسے سور، کتوں، بلیوں، بکریوں اور گھوڑوں میں بھی انفیکشن پیدا کر سکتا ہے۔

علامات: عام طور پر اس وائرس میں انفیکشن سے علامات ظاہر ہونے کا وقت 4 سے 21 دن ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔

ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، جسمانی درد اور سانس کی مشکلات شامل ہیں۔: سب سے سنگین پیچیدگی دماغی سوزش (Encephalitis) ہے، جو انفیکشن کے 3 سے 21 دن بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس بیماری میں موت کا خطرہ بہت زیادہ ہے تاہم صحتیاب ہونے والے اکثر مکمل صحتیابی پاتے ہیں، لیکن کچھ طویل مدتی نیورولوجیکل مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں

وائرس کہاں پایا گیا؟ انسانی انفیکشن کے کیسز زیادہ تر جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر دیہی یا نیم دیہی علاقوں میں۔ نپاہ وائرس پہلی بار ملیشیا میں 1999 میں شناخت ہوا، اس کے بعد سے اکثر چھوٹے چھوٹے پھیلاؤ کے واقعات بنگلہ دیش میں دیکھے گئے، جبکہ بھارت میں بھی کبھی کبھار پھیلاؤ ہوتا رہا ہے۔ CEPI کے مطابق اب تک تقریباً 750 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 415 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کس طرح پھیلتا ہے؟: ابتدائی طور پر نپاہ وائرس متاثرہ سوروں یا ان کے متاثرہ ٹشوز کے ذریعے پھیلا۔ تاہم بعد میں یہ زیادہ تر اپنے قدرتی میزبان فروٹ بیٹس سے انسانی رابطے یا بیج یا پھل کے رس کے ذریعے پھیلتا ہے، جیسے کچا کھجور یا کھجور کے رس جو بیٹس کے پیشاب یا تھوک سے آلودہ ہو۔

مزید جانئے: بھارتی حکومت کی نااہلی سے مہلک ’نیپا وائرس‘ خطے میں پھیلنے کا خدشہ

انسان سے انسان میں بھی وائرس قریبی رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر گھر کے افراد یا مریض کی دیکھ بھال کرنے والوں میں۔

کتنا فکر مند ہونا چاہیے؟ اگرچہ نپاہ وائرس مہلک ہے، لیکن ابھی تک یہ انسانوں میں آسانی سے منتقل ہونے یا عالمی سطح پر پھیلنے کی علامات نہیں دکھاتا۔

علاج اور ویکسین: ابھی نپاہ وائرس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں، کچھ تجرباتی علاج اور ویکسینیں ترقی کے مراحل میں ہیں، جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین بھی شامل ہے، جسے کووڈ-19 ویکسین کی ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا اور دسمبر میں بنگلہ دیش میں فیز II ٹیسٹنگ شروع ہوئی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *