جمہوریہ کانگو کے مشرقی حصے میں واقع روبایا کے علاقے میں کولٹن کی ایک کان منہدم ہونے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے کان کنوں کی تعداد 227 سے تجاوز کرگئی ہے، جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جب کہ کم از کم 20 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگو کے مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ روز پیش آیا، تاہم ہلاکتوں کی اصل تعداد میں اضافے کا خدشہ اب بھی موجود ہے کیونکہ امدادی کارروائیاں محدود وسائل اور سیکیورٹی خدشات کے باعث سست روی کا شکار ہیں۔
صوبے میں باغی گروہوں کے زیر کنٹرول گورنر کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ یہ ہلاکتیں رواں ہفتے کے اوائل میں پیش آنے والے کان حادثے کا نتیجہ ہیں، جہاں درجنوں کانکن ملبے تلے دب گئے تھے۔ ترجمان کے مطابق متاثرہ کان ایک غیر رسمی یا آرٹی سینل کان تھی، جہاں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔
یہ واقعہ روبایا کے قریب پیش آیا جو کولٹن کے ذخائر کے حوالے سے ایک اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ کولٹن ایک قیمتی دھاتی معدنیات ہے جو اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر جدید الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والے پرزہ جات کی تیاری کے لیے بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر اسمارٹ فون انڈسٹری بڑی حد تک اسی خطے سے حاصل ہونے والے کولٹن پر انحصار کرتی ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کان میں کام کرنے والے بیشتر افراد انتہائی غربت کے باعث خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور تھے، جب کہ خواتین اور بچے بھی روزگار کے حصول کے لیے ان کانوں کا رخ کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی اس علاقے میں بچوں سے مشقت، غیر محفوظ کان کنی اور باغی گروہوں کی مالی معاونت جیسے سنگین مسائل پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور غیر رسمی کانوں کی نگرانی سخت کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک سانحات سے بچا جا سکے۔