امریکی محکمۂ انصاف نے مرحوم مالیاتی ماہر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تفتیشی ریکارڈز کا ایک بڑا ذخیرہ عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اس اجرا میں 30 لاکھ سے زیادہ صفحات پر مشتمل دستاویزات، 2 ہزار سے زیادہ ویڈیوز اور تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار تصاویر شامل ہیں۔
نائب اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ اجرا ’ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ‘ کی قانونی شرائط پوری کرتا ہے، جو گزشتہ برس کانگریس نے دو جماعتی حمایت سے منظور کیا تھا اور جس کا مقصد ایپسٹین سے متعلق تمام وفاقی دستاویزات کو منظرِ عام پر لانا تھا۔
بلانش کے مطابق ’آج کا اجرا دستاویزات کی شناخت اور جانچ کے ایک جامع عمل کا اختتام ہے، تاکہ امریکی عوام کے لیے شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور قانون کی مکمل تعمیل ہو‘۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو فائلوں کے اجرا میں تاخیر اور شائع شدہ مواد میں کی گئی سنسرشپ ریڈیکشنز) پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ محکمۂ انصاف کانگریس کی جانب سے مقرر کردہ 19 دسمبر کی آخری تاریخ پوری کرنے میں ناکام رہا تھا۔
بلانش نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ محکمۂ انصاف بااثر شخصیات، بشمول صدر ٹرمپ کو تحفظ دے رہا ہے۔ ٹرمپ ایپسٹین کے ساتھ ماضی کی دوستی تسلیم کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے نابالغوں کی جنسی اسمگلنگ کے کسی نیٹ ورک سے لاعلمی کا دعویٰ کیا ہے۔
بلانش نے کہا کہ ’یہ ایک مفروضہ بنا لیا گیا ہے کہ کہیں کوئی خفیہ معلومات چھپائی جا رہی ہیں یا ہم جان بوجھ کر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کر رہے۔ ایسا نہیں ہے‘۔
شفافیت کے قانون کے تحت، محکمۂ انصاف نے بتایا کہ 60 لاکھ سے زیادہ ممکنہ طور پر متعلقہ صفحات کا جائزہ لینے کے لیے سینکڑوں وکلا تعینات کیے گئے۔ اس عمل کا مقصد متاثرین کی شناخت کے تحفظ اور جاری تحقیقات کو نقصان سے بچانا تھا۔ بلانش کے مطابق، گھسلین میکسویل کے علاوہ ایپسٹین فائلوں میں شامل تمام خواتین کی شناخت ویڈیوز اور تصاویر میں چھپا دی گئی ہے۔ میکسویل، جو ایپسٹین کی سابقہ گرل فرینڈ تھیں، 2021 میں بچوں کی جنسی اسمگلنگ کے جرم میں سزا یافتہ ہوئیں اور اس وقت 20 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
تاہم، اس بڑے اجرا کے باوجود ڈیموکریٹ رہنماؤں نے سوالات اٹھائے کہ آخر کون سا مواد اب بھی جاری نہیں کیا گیا۔ ایوانِ نمائندگان کے رکن رو کھنّا، جو اس قانون کے شریک مصنف ہیں، نے کہا کہ 60 لاکھ میں سے صرف تقریباً 35 لاکھ صفحات جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی مواد کیوں روکا گیا ہے‘۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے قائد چک شومر نے بھی مطالبہ کیا کہ واضح طور پر بتایا جائے آیا صدر ٹرمپ سے متعلق تمام دستاویزات جاری کر دی گئی ہیں یا نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں یا نہیں؟ ہمیں جواب چاہیے‘۔
اس سے قبل جاری کی گئی فائلوں میں 1990 کی دہائی کے فلائٹ لاگز شامل تھے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے ایپسٹین کے نجی طیارے میں سفر کیا تھا۔ ان دستاویزات میں ایپسٹین کی بااثر شخصیات، جیسے بل گیٹس، بل کلنٹن، اسٹیو بینن اور ووڈی ایلن کے ساتھ سماجی ملاقاتوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ ان میں سے کسی بھی فرد پر ایپسٹین کے معاملے میں جرم عائد نہیں کیا گیا۔
تازہ ترین اجرا کے ابتدائی جائزے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایپسٹین اور ارب پتی ایلون مسک کے درمیان ممکنہ طور پر ایپسٹین کے نجی جزیرے کے دورے سے متعلق ای میلز، ایپسٹین اور اسٹیو بینن کے درمیان پیغامات (جن میں بعض اوقات ٹرمپ کا ذکر تھا) اور ایپسٹین کی قید اور موت سے متعلق تفتیشی دستاویزات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز میں پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا بھی نام آ چکاہے۔
ایپسٹین اگست 2019 میں نیویارک کی جیل میں بظاہر خودکشی کے باعث ہلاک ہو گیا تھا، یہ واقعہ وفاقی جنسی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد ہونے کے تقریباً ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس سے قبل، 2008 میں فلوریڈا میں ریاستی سطح کے جنسی جرائم کے ایک معاہدے کے تحت اسے صرف 13 ماہ قید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جسے وسیع پیمانے پر نرم اور متنازع قرار دیا گیا۔
ایپسٹین کی متاثرین میں سے ایک، ورجینیا رابرٹس جیوفری، نے الزام عائد کیا تھا کہ ایپسٹین نے کم عمری میں بااثر مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے لیے انتظامات کیے۔ جیوفری، جو اپریل 2025 میں آسٹریلیا میں انتقال کر گئیں، نے متعدد معروف شخصیات کے نام لیے، تاہم تمام افراد نے الزامات کی تردید کی۔ ان میں برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو بھی شامل تھے، جنہوں نے الزامات مسترد کیے مگر بعد میں جیوفری کے ساتھ ایک دیوانی مقدمہ نامعلوم رقم پر طے کر لیا۔ اکتوبر میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے تنازع کے باعث اپنے بھائی سے شاہی خطابات واپس لے لیے۔
محکمۂ انصاف کے مطابق، گھسلین میکسویل کے سوا ایپسٹین فائلوں میں نامزد کسی بھی فرد پر اب تک اس معاملے میں فوجداری الزامات عائد نہیں کیے گئے، جبکہ نئی دستاویزات سے متعلق تفصیلات آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہیں۔