جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کے قریبی ساتھی اور ممتاز قانون دان جلال الدین ایڈووکیٹ انتقال کر گئے، جن کی وفات سے جماعتی اور سیاسی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی فضا پائی جارہی ہے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ مفتی محمود مرکز پشاور میں ادا کی گئی، جس میں جماعت کے رہنماؤں، کارکنان، وکلا برادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جلال الدین ایڈووکیٹ کو جمعیت علمائے اسلام (ف) میں ایک باوقار، سنجیدہ اور قابل اعتماد شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔ وہ طویل عرصے تک جماعتی امور میں سرگرم رہے اور مختلف مواقع پر اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ ان کی خدمات کو جماعتی سطح پر ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران مرحوم کی وفات پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جلال الدین ایڈووکیٹ ان کے دیرینہ رفیق اور نہایت قابل اعتماد ساتھی تھے، جنہوں نے ہر ذمہ داری دیانت داری، فہم و فراست اور اخلاص کے ساتھ نبھائی۔ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق مرحوم کی وفات نہ صرف جماعت کے لیے بلکہ ان کے لیے ذاتی طور پر بھی ایک بڑا صدمہ ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک مخلص، باصلاحیت اور ذمہ دار رہنما سے محروم ہو گئی ہے، جن کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ اور صبر جمیل نصیب فرمائے۔
مرحوم کی وفات پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے تعزیتی بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔