بھارت میں بدعنوانی، اقربا پروری اور طاقتور کارپوریٹ مفادات کے گٹھ جوڑ کی کہانی ایک بار پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن گئی ہے، حالیہ امریکا بھارت تجارتی کشیدگی کے دوران اڈانی گروپ سے متعلق امریکی تحقیقات نے مودی سرکار کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جسے عالمی مبصرین نااہل اور کرپٹ حکمرانی کی ایک اور واضح مثال قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی کیس اب صرف ایک کاروباری اسکینڈل نہیں رہا بلکہ یہ بھارت کی سفارتی، قانونی اور اخلاقی پوزیشن کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، مودی حکومت کی جانب سے اڈانی گروپ کو مبینہ تحفظ فراہم کیے جانے کے انکشافات نے بھارتی ریاستی ڈھانچے پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکا میں رشوت خوری کے انکشافات، بھارت کی ساکھ کو شدید دھچکا
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا میں جاری تحقیقات کے دوران اڈانی پر 250 ملین ڈالر کی رشوت خوری کے سنگین الزامات سامنے آئے، جنہوں نے بھارت کے شفافیت اور قانون کی بالادستی کے دعوؤں کو بری طرح متاثر کیا، ان انکشافات کے بعد عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ ہل کر رہ گئی۔
عالمی جریدے بلومبرگ کے مطابق گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے اڈانی گروپ امریکا میں رشوت خوری اور مالی فراڈ سے متعلق متعدد مقدمات کی زد میں ہے، جن میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی کے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مودی کی ناکام کوششیں، امریکی ادارے پیچھے نہ ہٹے
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے طویل عرصے تک اڈانی اور اس کے بھتیجے کو امریکی سمن سے بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم مودی سرکار کی تمام تر سفارتی اور سیاسی کاوشوں کے باوجود امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے کارروائی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔
عالمی جریدے نے یاد دلایا کہ اس سے قبل ہنڈن برگ رپورٹ بھی اڈانی گروپ پر شیئر مارکیٹ میں ہیرا پھیری، مالی فراڈ اور بدانتظامی کے سنگین الزامات عائد کر چکی ہے، جس کے بعد اڈانی گروپ کی عالمی مالیاتی ساکھ کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔
بھاری جرمانے اور قید کی سزاؤں کا خدشہ
بلومبرگ کے مطابق امریکی مقدمات میں اڈانی کو بھاری مالی جرمانوں اور ممکنہ قید کی سزاؤں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے نہ صرف اڈانی گروپ بلکہ مودی حکومت کے سیاسی مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیٹلمنٹ کی کوششیں، اعترافِ جرم کے مترادف قرار
دوسری جانب بھارتی صحافی وینود چند نے انکشاف کیا ہے کہ اڈانی گروپ نے امریکی کیس میں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے سیٹلمنٹ کی کوششیں تیز کر دی ہیں، ان کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے براہِ راست سمن جاری ہونے کے بعد اڈانی گروپ دباؤ میں آ گیا ہے۔
بھارتی صحافی کے مطابق قانونی طور پر سیٹلمنٹ کی کوشش کو ’اعترافِ جرم کے مترادف‘ سمجھا جاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اڈانی گروپ امریکی عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
مودی اڈانی گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات
عالمی ماہرین کے مطابق امریکا میں جاری اڈانی کیس نے مودی اور کرپٹ اشرافیہ کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل نے بھارت کے نام نہاد عالمی اقتصادی طاقت بننے کے دعوؤں کو زمین بوس کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کرپٹ مودی اڈانی اتحاد نے بھارت کو عالمی سطح پر ذلت، رسوائی اور بداعتمادی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف بھارتی معیشت بلکہ اس کی خارجہ پالیسی اور سفارتی تعلقات پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔