کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں پھوٹ پڑ گئی، عمر نظیر نے سردار امان اور دیگر کے بیانات کو پالیسی کے خلاف قرار دے دیا –

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں پھوٹ پڑ گئی، عمر نظیر نے  سردار امان اور دیگر کے بیانات کو پالیسی کے خلاف قرار دے دیا –

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے متنازع بیانات اور نعروں پر عوامی ردعمل کے بعد تنظیم کے اندر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ کمیٹی کے کور ممبر عمر نظیر نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بعض افراد کی تقاریر نعرے اور نظریات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پالیسی چارٹر آف ڈیمانڈ یا سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔

عمر نظیر نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ معاہدے اور ایس او پیز سب کے سامنے موجود ہیں اور ان میں کہیں بھی ایسے مطالبات یا ایجنڈا شامل نہیں جو بعض مقررین کی تقاریر میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی بنیادی عوامی حقوق کے حصول کے لیے قائم کی گئی تھی اور اس کا مؤقف ہمیشہ عوام کے سامنے واضح اور شفاف رہا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض افراد نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اسٹیج کو اپنے ذاتی، نظریاتی اور تنظیمی خیالات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جس کے باعث اس پلیٹ فارم کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا گیا۔ ان کے مطابق ایسے نعرے اور تقاریر کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ، پالیسی اور طے شدہ ایس او پیز کا حصہ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آؤ ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا دوٹوک جواب

کور ممبر نے واضح کیا کہ آئندہ اگر کسی دھرنے جلسے یا اجتماع میں کوئی شخص ایسا بیان دیتا ہے جو کمیٹی کے طے شدہ مؤقف سے مختلف ہو تو اس کی ذمہ داری جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد نہیں ہوگی۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان عوام اور میڈیا سے بھی اپیل کی کہ صرف کور ممبران کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات کو ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ اور حتمی مؤقف سمجھا جائے۔

عمر نظیر نے بالواسطہ طور پر کور ممبران خواجہ مہران اور سردار امان کے حالیہ بیانات سے بھی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی رہنما نے اپنے ذاتی نظریات یا مؤقف کا اظہار کیا ہے تو اسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف نہ سمجھا جائے۔

 اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اندر اہم معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں جبکہ تنظیم کی قیادت کے مختلف دھڑوں کے درمیان مؤقف کا فرق بھی نمایاں ہو گیا ہے۔

editor

Related Articles