سہیل آفریدی نے آج عمران خان کو مکمل تنہا کر دیا ، وزیراعلی خیبر پختونخوا ، علی امین گنڈاپور پارٹ ٹو ثابت ہوئے ، پی ٹی آئی کارکنان بھی مایوس ہو گئے
Home - آزاد سیاست - سہیل آفریدی نے آج عمران خان کو مکمل تنہا کر دیا ، وزیراعلی خیبر پختونخوا ، علی امین گنڈاپور پارٹ ٹو ثابت ہوئے ، پی ٹی آئی کارکنان بھی مایوس ہو گئے
وزیراعظم شہباز شریف سے خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی حالیہ ملاقات نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ملاقات کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اس ملاقات کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق یہ ملاقات صوبائی امور، مالی معاملات اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون کے تناظر میں ہوئی، جس میں انتظامی اور ترقیاتی موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعلی کے میڈیا پر بیان کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو چکی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی پوسٹس اور تبصروں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وزیرِاعلیٰ کی یہ ملاقات محض ایک رسمی یا انتظامی ملاقات نہیں تھی بلکہ اسے ایک “سیاسی مفاہمت” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
متعدد صارفین کا دعویٰ ہے کہ ملاقات کے دوران عمران خان کی صحت، ان کی رہائی یا جیل میں ملاقاتوں جیسے معاملات زیرِ بحث نہیں آئے، جس پر پی ٹی آئی کے حامیوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کارکنان کا کہنا ہے کہ انہیں اس ملاقات سے توقعات وابستہ تھیں کہ عمران خان سے متعلق امور کو سنجیدگی سے اٹھایا جائے گا، تاہم ایسا نہ ہونا مایوسی کا باعث بنا ہے۔ بعض حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ ملاقات پارٹی پالیسی کے مطابق تھی یا ایک انفرادی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ آج ثابت ہو گیا کہ عمران خان کو مکمل تنہا کر دیا گیا ہے، سہیل افریدی آج کی ملاقات کے بعد علی امین گنڈاپور پارٹ ٹو ثابت ہوئے ہیں ۔
صارفین کا کہنا تھا کہ آج خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جو قدم اٹھایا، وہ محض ایک سیاسی ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ ایک واضح سیاسی سودا تھا۔ آج وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کے ذریعے سہیل آفریدی نے عمران خان کو بالاخر فروخت کر دیا ہے ۔
سوشل میڈیا صارفین کیساتھ ساتھ پی ٹی آئی کارکنان کو بھی سہیل آفریدی اور وزیراعظم کے مابین ہونیوالی ملاقات سے مایوسی ہوئی ہے ، کارکنان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے بعد یہ بات اب تاثر نہیں رہی، یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لیے نہ تو تحریک انصاف کی جدوجہد اہم رہی، نہ قید میں موجود عمران خان کو یاد رکھا گیا بلکہ ان سب چیزوں کو بھلا کر مفاد کا سودا کیا گیا ہے۔ آج کی ملاقات نے اقتدار، مفادات اور مالی فوائد عمران خان کے بیانیے پر ترجیح پا چکے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کی بات تو دور دور تک سہیل افریدی نے خود کہا صرف اگر بات ہوئی تو وہ پیسے کے لین دین پر ملاقات ختم ہو گئی ہے یعنی سہیل آفریدی کیلئے اپنا مفاد سب سے زیادہ ضروری تھا اور ان کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اپنے لیے راستہ صاف کر لیا۔
صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج سہیل آفریدی نے یہ پیغام دے دیا کہ انہیں عمران خان سے کوئی سروکار نہیں بلکہ انہیں صرف اپنی ڈیل، اپنی بقا اور اپنا فائدہ چاہیے۔آج کی ملاقات کوئی تجزیہ نہیں، یہ آج کا سیاسی عمل ہے، جس میں عمران خان آج فروخت ہو چکا ہے۔
سینئر تجزیہ کار جبار چوہدری نے وزیراعظم شہباز شریف سے سہیل آفریدی کی ملاقات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان میں ایک بڑی سیاسی پیش رفت دیکھنے میں آئی جب خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ، جو ماضی میں وزیراعظم کو تسلیم نہیں کرتے تھے، خود ان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ اس ملاقات سے واضح ہو گیا کہ “عشقِ عمران” کا بیانیہ اب ختم ہو چکا ہے اور صوبائی قیادت نے سیاسی بقا کو نظریے پر ترجیح دی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ان کے نظریے پر کوئی مؤثر بات سامنے نہ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ترجیح اقتدار، فنڈز اور مفاہمت ہے۔
سینئر تجزیہ کار احمد وڑائچ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سے سہیل آفریدی کی ملاقات میں عمران خان کی رہائی یا ملاقات کا کوئی ذکر نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ صوبائی قیادت نے عملی طور پر بانی پی ٹی آئی کے نظریے سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے، اور اب ترجیح صرف اقتدار اور سیاسی بقا نظر آتی ہے۔
تجزیہ کارعمران وسیم نے وزیراعظم شہباز شریف سے سہیل آفریدی کی ملاقات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی ہر بات عمران خان سے منسوب کرتی ہے تو آج جب وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں موقع تھا تو سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات والا معاملہ ڈسکس ہی نہیں کیا ؟ ان سے کوئی سیاسی بات ہی نہیں کی؟ سوال تو یہی ہے ۔