Islamabad: ملک میں پہلی بار “میڈ اِن پاکستان” الیکٹرانکس ڈیوائسز اور موبائل فونز کی مقامی تیاری کے فروغ کے لیے سات سالہ جامع پالیسی تیار کر لی گئی۔
Engineering Development Board کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے سالانہ 40 کروڑ ڈالر تک آمدن متوقع ہے، جبکہ صنعتی شعبے میں روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کی زیر صدارت اجلاس میں “موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2033” پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔
حکام کے مطابق پالیسی کو حتمی شکل دے کر وزیرِاعظم کو پیش کرنے کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔
ہارون اختر کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے تحت موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کی مقامی سطح پر باقاعدہ تیاری کا آغاز ہوگا، جو صنعتی شعبے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف پاکستان کو خطے میں موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانا ہے۔