وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) میں گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی بھرتیوں اور ترقیوں کے لیے نئے ڈرافٹ رولز تیار کر لیے گئے ہیں، جنہیں وزارتِ داخلہ کی حتمی منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔
مجوزہ قواعد کے تحت ادارے کی ساخت، کیریئر اسٹرکچر اور ترقی کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جس سے افسران کی پیشہ ورانہ سمت اور سروس اسٹرکچر واضح ہو جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نئے رولز میں گریڈ 17 کی بھرتیاں صرف فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر کی جائیں گی، جس کا مقصد شفاف اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام سے ادارے میں براہِ راست سیاسی یا سفارشی مداخلت کے امکانات کم ہوں گے اور پیشہ ورانہ معیار میں بہتری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں:مستحقین کیلئے بڑی خوشخبری،حکومت کا رمضان میں مالی امداد کی رقم بڑھانے کا اعلان
نئے ڈھانچے کے تحت ایف آئی اے کو انتظامی طور پر چار بڑے گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں انویسٹی گیشن گروپ، لیگل گروپ، ایکسپرٹس گروپ اور منسٹریل گروپ شامل ہیں۔ ہر گروپ میں متعلقہ مہارت اور تعلیمی پس منظر کے حامل افسران کی تعیناتی کی جائے گی۔ رولز کے مطابق ملازمین کو اپنی ابتدائی تعیناتی والے گروپ میں ہی پوری سروس مکمل کرنا ہوگی، تاکہ مہارت اور تخصص کو فروغ دیا جا سکے اور بار بار تبادلوں سے نظام متاثر نہ ہو۔
پروموشن پالیسی میں بھی نمایاں ردوبدل کیا گیا ہے۔ مجوزہ قواعد کے مطابق گریڈ 20 اور 21 میں 70 فیصد نشستیں پاکستان پولیس سروس (پی ایس پی) کے افسران کے لیے مختص ہوں گی جبکہ 30 فیصد محکمانہ افسران کو دی جائیں گی۔ اسی طرح گریڈ 19 میں پی ایس پیز اور محکمانہ افسران کی شرح 50،50 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت نے رمضان میں پکوڑوں اور سموسوں کے بھی ریٹ مقرر کر دیے،نوٹیفکیشن جاری

