صبر ختم ہونے کو، عالمی قوانین کے تحت جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں، پاکستان کا افغانستان کو سخت ڈی مارش

صبر ختم ہونے کو، عالمی قوانین کے تحت جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں، پاکستان کا افغانستان کو سخت ڈی مارش

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں اہم خارجہ امور پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے باجوڑ پر حملے کے معاملے پر افغان حکومت کو باضابطہ ڈی مارش کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پاکستان کا صبر ختم ہونے کو آ گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو نشانہ بنتا ہوا نہیں دیکھ سکتا اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور ان کے افغان تانے بانے سے متعلق نکات اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی سامنے آئے ہیں، جس پر پاکستان عالمی سطح پر مسلسل آواز اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی سینکشنز کمیٹی سمیت مختلف فورمز پر پاکستان اس معاملے کو اٹھاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:باجوڑ ملنگی پوسٹ حملہ ناکام بنانے کے بعدآئی جی ایف سی موٹر سائیکل پر عوام کے درمیان پہنچ گئے

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دوست ممالک کی جانب سے افغان طالبان حکومت کو دہشتگردی کے خلاف ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانا ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم سعودی عرب اس معاملے میں باقاعدہ ثالثی نہیں کر رہا۔

انہوں نے بتایا کہ 3 پاکستانی فوجیوں کی افغان قید سے رہائی اور انہیں سعودی عرب کے حوالے کیے جانے کے حوالے سے ابھی تک باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے۔ پاکستان اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھ رہا ہے اور جلد وضاحت کی امید رکھتا ہے۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس وقت نیویارک میں غزہ بورڈ آف پیس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس فورم میں شمولیت سے قبل تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا۔

اسرائیل کی شرکت پاکستان کا میٹر آف کنسرن نہیں بلکہ پاکستان کی ترجیح غزہ میں امن اور خوشحالی کے لیے عملی کردار ادا کرنا ہے۔ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر بحث آئے گا۔

امریکا سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم کی ملاقات ہوگی یا نہیں، اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ایران اور امریکا مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن اور ڈپلومیسی کی حمایت کرتا آیا ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کو ہی مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

مزید پڑھیں:شمالی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی معصوم شہریوں پر خودکش حملے کی ناکام کوشش، 3 خواتین اور 2 بچے شہید، 4 دہشتگرد ہلاک

علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ اسے بھارت نے غیر مؤثر بنا رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے پیش کش کی ہے کہ وہ سارک کو فعال بنانے کے لیے کردار ادا کرے گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی موجودہ پالیسیوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھی ہے اور اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مؤثر آواز بلند کرتا رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *